- الإعلانات -

وزیراعظم عمران خان کا ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال

 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ہمارا چیلنج ترقی یافتہ ملکوں سے بڑا ہے، ہمیں اپنے لوگوں کو وباءکے ساتھ ساتھ غربت اور بھوک سے بھی بچانا ہے، قوم کورونا کو شکست دینے کیلئے متحد ہو کر لڑے، عوام رمضان المبارک میں مساجد میں جانے کیلئے 20 نکاتی اجماع پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے، کسی علاقہ میں کورونا کے پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی۔ منگل کو ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کا چیلنج کتنی دیر رہے گا اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، اس لئے اب مختلف ممالک لاک ڈاﺅن میں نرمی کا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشرہ کے غریب اور کمزور طبقات کو مشکلات کا سامنا ہے، اس سلسلہ میں احساس راشن پورٹل غریب اور ضرورت مند لوگوں کی امداد میں معاون ثابت ہو گا۔ ٹائیگرز رضاکار فورس پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک رضاکار فورس ہے اور انسانی ہمدردی کے جذبہ کے تحت غریب عوام کی مدد کیلئے بلامعاوضہ کام کرے گی، یہ رضاکار مستحقین اور مخیر حضرات کے متعلق معلومات حاصل کرکے ان کا پورٹل پر اندراج کرائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مستحق افراد اور ڈونرز کو ایک پورٹل سے منسلک کیا جائے گا، اس حوالہ سے حکومت کا کردار مستحقین اور ڈونرز کے متعلق ڈیٹا کی دستیابی کے ذریعے سہولت فراہم کرنا ہے، یہ پورٹل نجی شعبہ کو معاشرہ کے کمزور طبقات تک رسائی فراہم کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بھی رضاکار فورس کی تیاری کے حوالہ سے کام کیا گیا ہے، مستقبل میں ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت دیگر تمام اداروں کو بھی اس میں شامل کرے گی۔ وزیراعظم نے رمضان المبارک کے دوران نماز و عبادات کے حوالہ سے کہا کہ مختلف مسلم ممالک میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے مساجد کو بند رکھنے سے متعلق فیصلے کئے گئے ہیں، رمضان المبارک عبادات کا مہینہ ہے، کوئی بھی مساجد کو بند کرنا نہیں چاہتا، اس سلسلہ میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ملک کے جید علماءکرام کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد 20 نکاتی اجماع طے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ گھر پر عبادت کرنے کو ترجیح دی جائے، اگر وہ مساجد میں جانا چاہتے ہیں تو انہیں اس حوالہ سے طے پانے والے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقہ میں کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوا تو اس صورت میں حکومت فیصلے پر نظرثانی کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر برا محسوس ہوتا ہے جب پولیس لاک ڈاﺅن کے دوران لوگوں پر سختی کرتی ہے، ہم ایک آزاد معاشرہ ہیں اور ہمیں اس حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں کا خود احساس کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف فیکٹریاں اور تعمیراتی شعبہ کو کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے، اس حوالہ سے مالکان کو طے شدہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی واپسی کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ملک میں کورونا کا وائرس پھیل سکتا ہے اور نتیجہ کے طور پر صحت کے نظام پر دباﺅ بڑھ جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 22 کروڑ کی آبادی کو بند کرنا یا ان سب کے ٹیسٹ کرنا ممکن نہیں تاہم اس سلسلہ میں ہم بیرونی دنیا کے تجربات سے سیکھ رہے ہیں، اس سلسلہ میں متاثرہ افراد کی آئسولیشن کے ذریعے اس وباءپر قابو پایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا میں مختلف ممالک کورونا کی وباءکے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں تاہم جب یہ وباءٹل جائے گی تو اسی صورت یہ واضح ہو سکے گا کہ کون سے ملک نے اس چیلنج پر کس طرح قابو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی، ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر قومی مجرم ہیں جو عام عوام کیلئے مشکلات پیدا کرکے ناجائز منافع کمانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ریاست مدینہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی پہلی ریاست تھی جس نے معاشرہ کے غریب اور کمزور طبقات کی مدد کی ذمہ داری اٹھائی، ایک مہذب انسانی معاشرہ کی پہچان یہ ہے کہ وہاں غریب اور پسماندہ افراد کا کس طرح خیال رکھا جاتا ہے