- الإعلانات -

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت پہلی دو کیٹگریز میں57 لاکھ 50 ہزار مستحق خاندانوں میں 69 ارب روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی پریس کانفرنس

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت پہلی دو کیٹگریز میں57 لاکھ 50 ہزار مستحق خاندانوں میں 69 ارب روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ پہلی کیٹگری کے تحت 80 فیصد ادائیگیوں کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسری کیٹگری کے تحت کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کے 3 کروڑ 50 لاکھ درخوستیں مسترد کی گئیں جبکہ 89000 کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈر کی شناخت نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہا تھرڈ کیٹگری کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کو شفاف بنانے کے لئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں۔وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں اس عمل کو انتہائی شفاف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن رٹئیلرز نے مستحقین میں 12000 روپے دیتے وقت کٹوتی کی ان کے خلاف سخت کاروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ احساس راشن پورٹل مستحقین کو راشن کی تقسیم کے لیے ڈونر تنظیموں کیساتھ منسلک کرنے کے لیے قائم کیا گیاایک مربوط سسٹم ہے۔ اس کا مقصد نجی شعبہ اور ڈونر تنظیموں کی انتہائی ضرورت مند اور پسماندہ افراد تک رسائی آسان بنانا ہے۔ حکومتِ پاکستان کا بنیادی کردار اہل مستحقین کا ڈیٹا مہیا کرنا اور ڈونرز کے ساتھ ان کا رابطہ قائم کروانے تک مرکوز ہے۔ مستحقین اور ڈونر تنظیمیں دونوں پورٹل میں اندراج کیلئے مطلوبہ معلومات فراہم کریں گی۔ مستحقین اور ڈونرز درج ذیل ویب سائٹ کے ذریعے خود کو رجسٹر کروا سکتے ہیں www.rashan.pass.gov.pk۔ مستحقین کی معلومات کی توثیق کی جائے گی اور احساس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے اہلیت کا تعین کیا جائیگا۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے راہنماء ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ سندھ حکومت احساس پروگرام پہ سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے احساس پوسٹرز پہ وزیراعظم اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصاویر آویزاں نہیں کیں اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے انتہائی محنت اور لگن سے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کی کٹس پہ بھی سیاست کی اور وفاقی حکومت کو واپس کردئیں کہ یہ کام نہیں کرتیں۔وہی کٹس این آئی ایچ میں کام کررہی ہیں اور بالکل صیحیح نتائج دے رہی ہیں۔انہوں نے سندھ حکومت پہ زور دیا کہ وہ اس موقع پہ سیاست نہ کرے