- الإعلانات -

اگرواقعی فیصلے علماء کرر ہے ہیں تو وزارت عظمیٰ۔۔۔سراج الحق نے حکومتی ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر اعظم کو نصیحت کر دی

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ فیصلے کرنا حکومت کا کام ہے ،حکومت کا اپنی ناکامیوں پر علماء کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں،اگرواقعی فیصلے علماء کرر ہے ہیں تو وزارت عظمیٰ کسی عالم دین کے حوالے کریں،حکومت خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور علماء کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے،حکومت فیصلہ کرے تو کون اس کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرسکتا ہے؟جس کی جو ذمہ داری ہےوہ اپنی ذمہ داری پوری کرے کیونکہ قیامت کے دن بھی اسی سے سوال ہوگا،علماء نے ہمیشہ قوانین کی پابندی کی ہے اور عوام کو قانون کی بالادستی اور احترام کا درس دیا ہے،ریاست سے بڑی کوئی طاقت نہیں ،سیکولر اور دین بے زار وزراء علماء اور مساجد ومدارس پر بلاجواز تنقیدکو اپنا فرض سمجھتے ہیں،عوام کورونا وباءسے احتیاط کی تمام تر تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھیں اور نمازیں پڑھیں،سب لوگ سنت مواخات کو زندہ کرتے ہوئے کم ازکم اپنے ایک ہمسائے کو سحری اور افطاری کا سامان ضرور پہچائیں تاکہ وہ رمضان کے روزے آسانی سے رکھ سکیں،حکومتی رویہ لوگوں کو مایوسی اور نا امیدی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے ،امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرتے ہوئے رمضان لمبارک میں ہی کورونا سے نجات دے دے گا۔