- الإعلانات -

ٹیلی تھون میں متنازعہ گفتگو اور دعا،سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی کے بعد مولانا طارق جمیل میدان میں آگئے،ایسی بات کہہ دی کہ تنقید کرنے والے یقین ہی نہ کر پائی٘ں گے

معروف عالم دین اور اسلامی سکالر مولانا طارق جمیل نے نجی ٹی وی چینل کی لائیو ٹیلی تھون نشریات میں اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اگر میری گفتگو سے کسی فرد یا شعبہ کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹس میں معروف عالم دین اور خطیب مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پروگرام “احساس ٹیلی تھون” میں گفتگو کے دوران جھوٹ اور بے حیائی کے تذکرے سے مقصود ان مہلک امراض سے اجتناب کی طرف اشارہ تھا نہ کے کسی فردِ واحد یا شعبہ کی دل آزاری، جو سچ اورحیاءکا دامن تھامے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ انکے طفیل ہماری اس مشکل گھڑی کو عافیت سے مبدّل فرمائیں۔اُنہوں نے کہا کہ اگر میری گفتگو سے کسی فرد یا شعبہ کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔مولانا طارق جمیل نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے،ایک آدمی حضور پاک ﷺ کے پاس پیش ہوا اور کہا کہ میرے اندر ہر عیب ہے لیکن آپ ایک گناہ بتا دیں جو میں چھوڑ دوں، میں سارے نہیں چھوڑ سکتا۔ تو حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔مولانا طارق جمیل نےکہا کہ میرے بیان میں "تمام” سے مراد سارے نہیں، بلکہ اکثریت ہے،پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ وہ حضرات جو سچ بولتے ہیں، میرے بیان سے ان کی دل آزاری ہوئی تو معذرت خواہ ہوں۔