- الإعلانات -

دنیا کا کوئی ملک تنِ تنہا کورونا بحران سے نبرد آزما نہیں ہو سکتا

چین میںپاکستان کی سفیر نغمانہ عالمگیر ہاشمی نے کہا ہے کہ دنیا کا کوئی ملک تنِ تنہا کورونا بحران سے نبرد آزما نہیں ہو سکتا۔ چین کورونا وباء پر مؤثر قابو پانے کے بعد اقوامِ عالم کے لئے ایک اْمید اور روشنی کی کرن بن کر سامنے آیا ہے ، وقت نے ایک با ر پھر ثابت کیا کہ پاک چین لازوال دوستی آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اتری ہے ، درپیش حالات میں پاکستانی سفارتخانہ نے اپنی تمام تر توجہ چینی کمپنیوں سے پاکستان کے لئے وباء پر قابو سے متعلق بہترین ٹیکنالوجی کے حصول پر مرکوزکر رکھی ہے اس سلسلہ میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے وبائی روک تھام کے لئے اقدامات کو تقویت دینے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف چینی اداروں کے ساتھ گفت و شنید کر رہے ہیں۔ چینی حکومت اور عوام سے وصول شدہ عطیات بھی خصوصی طیاروں کے ذریعے پاکستان پہنچائے جا رہے ہیں۔ پاکستانی طلباء کو وطن واپس نہ بھیجنے کے مشکل اور پیچیدہ فیصلے کو وقت نے درست ثابت کیا ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہاربیجنگ سے جاری کردہ اپنے ایک تازہ ترین مضمون میںکیا ہے ”چین میں کوویڈـ19وبا ء اور سفارت خانہء پاکستان بیجنگ کا کردار” کے عنوان سے اپنے مضمون میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ چین اس وقت دْنیا کا واحد ملک ہے جِس نے کورونا وائرس پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے۔ چین کی یہ شاندار کامیابی چینی قیادت کی حکمت و بصیرت، ماہرینِ صحت کی معاملہ فہمی، انتظامیہ کی محنت اور عوام الناس کے عزم و استقلال اور اپنی حکومت پر یقینِ محکم کے طفیل ہے،۔سفیر نے کہا کہ چین کی اس کامیابی میں تمام متاثرہ ملکوں بالخصوص پاکستان کے لئے یہ سبق ہے کہ زندہ دل اقوام صرف نظم و ضبط، یقینِ محکم اور ثابت قدمی سے ہی سرخرو ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکومت کے وباء پھوٹنے کے بعد کے اقدامات کا بغور جائزہ لینے کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وباء کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کی بیخ کنی کیلئے سیاسی قیادت کی بصیرت اور دْور اندیشی ، سیاسی عزم و استقلال اور ماہرینِ صحت کے مشوروں پر عمل کرنا بے حد اہمیت کا حامل ہے۔سفیر نے کہا کہ وطنِ عزیز پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ چین کورونا وباء پر مؤثر قابو پانے کے بعد تمام اقوامِ عالم کے لئے ایک اْمید کا چراغ اور روشنی کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی چین سے صحتِ عامہ اور بالخصوص کورونا وباء کے حوالے سے تعاون کے درخواست گزار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اِن حالات میں پاکستان سفارتخانہ نے اب اپنی تمام توجہ چینی کمپنیوں سے وطنِ عزیز کے لئے بہترین ٹیکنالوجی کے حصول پر مرتکز کر دی ہے تا کہ پاکستان میں اس وباء پر قابو پایا جا سکے۔ ہم اِس وقت ہنگامی بنیادوں پر مختلف چینی اداروں کے ساتھ گفت و شنید کر رہے ہیں تا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی وبائی روک تھام کے لئے اقدامات کو کمک پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے عوام و خواص، حکومت اور کمیونسٹ پارٹی میں پاکستان کے لئے اخوت اور گرم جوشی کے جذبات مؤجزن ہیں۔ سفارت خانہ نے اِن جذبات کو مدِنظر رکھتے ہوئے چینی حکومت اور عوام سے عطیات کی ایک بہت بڑی تعداد وصول کی ہے جو خصوصی طیاروں کے ذریعے پاکستان پہنچائی جا رہی ہے۔ چین کے اعلیٰ افسران اور معاشرے کے با اثر و متمول افراد نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ قائم کر کے پاکستان میں وباء کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا اور بے حد فیاضی و سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطیات اور طبی آلات فراہم کئے۔ انہوں نے کہا کہ وقت نے دوبارہ ثابت کیا کہ پاکستان اور چین کا کاروان دوستی نہ صرف امن و سلامتی کے سبزہ زاروں بلکہ آزمائش اور کٹھن حالات کے ریگزاروں میں بھی شاداں و فرحاں منزلِ مقصود کی طرف رواں دواں ہے ،سفیر نے چین میںکورونا سے درپیش صورتحال کے تناظر میںاپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کوویڈـ 19وباء کا آغاز چین کے شہر وْوہان میں دسمبر کے اوائل میں ہوا اور اس موذی بیماری نے آن ہی آن میں صوبہ ہوبئے اور چین کے وسیع علاقے کو اپنی گرفت میں لے لیا۔چینی حکومت نے 23 جنوری کو وْوہان شہر بشمول صوبہ ہوبئے میں مکمل لاک ڈاؤن اور پورے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا۔چینی حکومت کے بروقت ،مؤثر اور ہنگامی اقدامات کے نتیجے میں چین کے اندر اس وبا ء پر قابو پایا جا چکا ہے اور معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وباء چین میں پاکستانی سفارتخانہ کے لئے ایک آزمائش بن کر ابھری ،ووہان اور صوبے ہوبئے میں شدید لاک ڈائون کی وجہ سے 1200 پاکستانی طلبا اور دیگر شہری بھی اپنے تعلیمی اداروں اور رہائش گاہوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ چین کے دیگر علاقوں میں مقیم 24000 پاکستانی طلباء کوبھی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور بین الاقوامی پروازوں کی معطلی کی وجہ سے شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑ