- الإعلانات -

بھارت اپنے ہاں کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے میں ناکامی، اقلیتیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور کشمیر میں اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے

 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کورونا کی وباء کے خلاف فوجی وسیاسی قیادت اور پوری قوم متحد ہے، خدشہ ہے کہ آئندہ 15 روز میں صورتحال بگڑ سکتی ہے، سمارٹ لاک ڈائون کے تناظر میں ٹریس ، ٹریک اینڈ کوارنٹائن کی جامع حکمت عملی پر عمل کیا جائے گا، بھارت ملک میں وباء کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی چھپانے، کشمیریوں پر مظالم اور اقلیتوں سے ناروا سلوک سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی سربراہی میں کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی سربراہی میںکانفرنس کا انعقاد ہوا، کانفرنس میں لائن آف کنٹرول پربھارتی جارحیت کا سخت نوٹس لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس عالمی وباء ہے اور اس کی روک تھام کے لئے متحد ہوکر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کورونا کے خلاف متحد ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ہر قسم کی جنگ بندی کی اپیل کی ہے لیکن بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ بھارت نے850 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کیں۔ بھارت انسانی آبادی کو ڈھال کے طورپر ستمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ وہ بھارت میں کورونا وباء پر قابو پانے میں ناکامی اقلیتیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور کشمیر میں اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھی بھارت آر ایس ایس ایجنڈے پر کار بند ہے۔ وباء کو اسلام سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی مذمت پوری دنیا نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں کورونا کیسز آزاد کشمیر میں سب سے کم ہیں۔ آزاد کشمیر میں ابھی تک کورونا سے کوئی موت نہیں ہوئی بلکہ 25 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں کورونا وارئس سے متاثرہ 212 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ملک بھر میں مجموعی طور پر کوروناوائرس سے231 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے 3 کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوجی اور سیاسی قیادت کی کاوشوں سے صورتحال میں بہتری آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں5 اگست 2019ء سے لاک ڈائون ہے۔ بھارت اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سول اور فوجی قیادت مل کر جامع حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی احتیاطی تدایبر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ملک میں کوروناسے متاثرہ افراد ابتدائی تخمینہ سے بہت کم ہے تاہم آئندہ دو ہفتوں میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں اجتماعی اور انفرادی احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیسٹنگ کی سہولت اور آئیسولیشن کی سہولیات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ پاک فوج کے انسانی وسائل اور ٹیکنیکل وسائل کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی لاک ڈائون کے تناظر میں ٹریس، ٹریک اینڈ کوارنٹائن کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا فرض ادا کریں گے۔ ڈی جی ایس پی آر نے کہاکہ حکمت عملی کے تحت وسائل کو صوبے، ضلع اور یونین کونسل کی سطح پر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے لاکھوں مستحق افراد تک راشن پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کورونا وباء کے متاثرین کو سہولت فراہم کرنے کے لئے متعدد مقامات پر قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اس قومی کاوش میں اپنا بھرپور کردار اد اکر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کو ہر قسم کا امدادی سامان فراہم کر کے سدابہار دوست ہونے کا عملی ثبوت دیا ہے۔ چین سے 17 پروازوں سے 77 ٹن امدادی سامان پاکستان لایا گیا جبکہ 66 ٹن امدادی سامان ملک کے مختلف حصوں میں پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی اے عملے کو ترجیحی بنیادوں پر آرمی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ موجودہ صورتحال میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں میڈیا نے آگاہی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔ کورونا کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے جزوی اور مخصوص علاقوں میں لاک ڈائون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے اور کورونا وباء کے دوران فرائض سرانجام دینے والے پاکستانیوںکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے دعا کی کہ ماہ رمضان کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہمیں کورونا کی وباء سے نجات دلائے