- الإعلانات -

موجودہ صورتحال میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بڑھ چڑھ کر مدد کررہے ہیں

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بڑھ چڑھ کر مدد کررہے ہیں، کورونا سے متعلق”یاران وطن” پروگرام بیرون ملک پاکستانیوں کے تعاون سے شروع کیا جارہا ہے۔ پروگرام کا مقصد طب کے شعبے سے وابستہ بیرون ملک پاکستانیوں کو خدمت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آ پریشن سینٹر میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ طب کے شعبے سے وابستہ پاکستانی رابطے میں ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس میں وہ اپنی رجسٹریشن کرائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ہیلتھ پروفیشنلز کی زیادہ تعداد امریکہ اور برطانیہ میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا سے متعلق یاران وطن پروگرام بہت اہمیت کا حامل ہوگا، بہت سے پاکستانی بڑھ چڑھ کر مدد کر رہے ہیں، تارکین وطن نے ہمیشہ مشکل وقت میں ملک کی مدد کی ہے، اس لئے نینشل ٹیکنالوجی بورڈ، وزارت صحت اور وزارت اوورسیز کے تعاون سے انفارمیشن ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بڑھ چڑھ کر مدد کررہے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہاکہ طب کے شعبے سے وابستہ بیرون ملک پاکستانی مسلسل رابطے میں ہیں، پروگرام میں بیرون ملک پاکستانی ڈاکٹرز تنظیموں سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔ پروگرام کا مقصد طب کے شعبے سے وابستہ بیرون ملک پاکستانیوں کو خدمت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس حوالے سے انٹرنیشنل مائیگریشن آرگنائزیشن (آئی ایم او) کا تعاون حاصل ہے اور ڈبلیو ایچ او نے تعاون کیا ہے اس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر ناروے سے ڈاکٹر عثمان مشتاق جو نارویجن پاکستانی ڈاکٹر ہیں نے کہا کہ اس پروگرام کو تشکیل دینے اور بنانے میں انہوں نے اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی ہے۔ ڈاکٹر عثمان نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی نوجوان ڈاکٹرز اپنے اپنے طریقے سے پاکستانیوں کے لئے کام کر رہے ہیں، ان کا تعاون پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاران وطن پروگرام ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آسانی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع دے گا، وہ کسی بھی طرح پاکستان کے ساتھ منسلک ہو کر کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ یاران وطن پروگرام کے ذریعے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عثمان نے کہا کہ کوئی ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ، کلینک، ریسرچ آرگنائزیشن، پبلک ہیلتھ آرگنائزیشن جو پاکستان میں کام کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ مل کر کام کریں، وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ڈیجیٹل ہیلتھ کی بہت ضرورت ہے اس پر کام کیا جا رہا ہے