- الإعلانات -

”اٹھارویں ترمیم صحیح سمت کی طرف قدم تھا لیکن۔۔۔“وفاقی وزیر نے حیران کن رائے پیش کردی

نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک وفاق اور صوبے ساتھ مل کرکام نہیں کریں گے تو معاملات حل نہیں ہوں گے، ہم کوئی اختیار صوبوں سے نہیں لینا چاہتے اورنہ ہی یہ اختیارات کی جنگ کا سلسلہ ہے بلکہ ہم مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں کچھ خامیاں نظرآئی ہیں اور ہمیں تجربہ بھی حاصل ہوگیا ہے ، تمام سیاسی جماعتیں اس پر بیٹھ کر بات کرسکتی ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد ملک کو آگے لے جانے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا سیکرٹریٹ بننا تھا لیکن پچھلی دونوں حکومتوں نے نہیں بنایا تاہم اب کابینہ نے سیکرٹریٹ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔