- الإعلانات -

ہمارے سامنے کورونا کا ایک چیلنج در پیش ہے،اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسداد کورونا میں اپنا کردار ادا کریں

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے کورونا کا ایک چیلنج در پیش ہے۔اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسداد کورونا میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہ اسی طرح مساجد میں علماءکرام کا کرداربہت اہم ہے۔مساجد کو کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کا ذریعہ نہیں بننے دیں گے۔انہوں نے کہا صدر مملکت نے کل اپنے خط میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔20نکاتی معاہدے پر من و عن عمل ہونا چاہیئے۔ اس وقت عوام کی نظر مذہبی رہنماوں اور علماءکی طرف ہے ۔کوورونا پر قابو پانے اور عوام میں شعور کو فروغ دینے کیلئے علماءکرام اپنا کردار ادا کریں۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھاڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کورونا کے خلاف جنگ میں ہر اول دستہ ہیں۔ڈاکٹرز اور طبی عملے کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اس مشکل محاذ پر ڈاکٹر اور طبی عملہ احسن خدمات سرانجام دے رہا ہے پوری قوم ڈاکٹر اور طبی عملے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں نے مکمل لاک ڈاو¿ن کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن حکومت اس وقت سمارٹ لاک ڈاو¿ن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔حکومت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے لیکن شہری اس حساس معاملے کو نہیں سمجھ رہے۔عوام کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔وباءکی روک تھام کیلئے سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنا نا گزیر ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت ہے کہ کورونا کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی۔اپوزیشن لیڈر اس وقت سیاسی تنہائی کا شکار ہیںاور خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لیے بیان دیتے رہتے ہیں۔ہمیں مجبوری میں ان کی بات کا جواب دینا پڑتا ہے۔شہباز صاحب!عمران خان جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔تاریخ میں پہلی دفعہ آٹے اور چینی کے بحران پر کمیشن بنا۔کمیشن کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کیلئے تمام اقدامات کیے۔ملک بھر میں لاک ڈاو¿ن کے باعث سرگرمیوں میں تعطل آیا۔جس کی وجہ سے کمیشن نے تین ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے۔کمیشن کو مزید وقت دینے کے فیصلے کا حق کابینہ کے پاس ہے۔کمیشن کو تین سال کے آڈٹ کا ہدف دیا گیا ہے۔کمیشن کی درخواست پر کابینہ میں غور ہو گا۔انہوں نے کہا رپورٹ پبلک کرنا دلیل ہے کہ وزیراعظم کی ترجیح افراد کا نہیں صرف اور صرف پاکستان کے عوام کے مفاد کا تحفظ ہے۔آپ اپنا بتائیں کہ گھر سے احتساب کی بات کب شروع کر رہے ہیں؟ آپ کے اپنے صاحبزادے سبسڈی کے بڑے بینیفیشری ہیں۔ خود اپنی جماعت کے اراکین کی دوہائیوں کے بعد وطن واپس آنے والے اپوزیشن رہنما کے پاس کرنے کو کچھ نہیں۔شہباز صاحب کمپیوٹر کے سامنے ماسک پہن کر شو بازی کرنے سے کرونا مہم نہیں چلتی۔لگتا ہے شیخ رشید صاحب کی گزشتہ دن کی گفتگو آپ کے دل پر لگی ہے۔صبح صبح بیان داغنا خود کو صدر ثابت کرنے کی کوشش ہے۔مریم نواز اگر شاہد خاقان عباسی کو صدر بنانا چاہتی ہیں تو ہمیں کوئی لینا دینا نہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہاعمران خان نے قوم سے حقائق نہ چھپانے کا عہد کیا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس طرح کی رپورٹس کو منظر عام پر لانے سے نابلد ہے۔یہ رپورٹ پاکستان کے عوام کی امانت ہے اسے ضرور پبلک کیا جائے گا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا اس وقت پاکستان میں کرونا ٹیسٹ کرنے والی لیبز کی تعداد40ہوگئی ہے۔اور یومیہ 8سے9ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔مئی کے آخر تک ٹیسٹینگ سہولت 20000تک لے جانا چاہتے ہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا قوم کے سامنے عمران خان اور اس کی حکومت ہی سرخرو ہو گی۔پہلی بار ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔رمضان کے مہینے میں لوگ ثواب کماتے ہیںلیکن بدقسمتی سے پاکستان میں منافع خور منافع کماتا ہے۔منافع خوروں کے خلاف آہنی ہاتھوںسے نمٹا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر آرڈیننس پر عمل کروایا جائے گا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھابے روزگار ہونے والے مزدوروں اور ملازمین کی نوکریوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ECCکی میٹنگ میں فیکٹریز کے لیے پیکج دیا جائے گا تاکہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور کا تحفظ کیا جا سکے۔بعد ازاںمعاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اقلیتی برادری اور معذور افراد میں راشن بھی تقسیم کی