- الإعلانات -

ملک میں لاک ڈاﺅن میں بتدریج نرمی کا فیصلہ کریں گے، عوام کی طرف سے احتیاط کے باعث کورونا کیسز اندازے سے کم ہیں، بہت سے ملکوں کی نسبت ہمارے ملک کے حالات بہتر ہیں وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں لاک ڈاﺅن میں بتدریج نرمی کا فیصلہ کریں گے، عوام کی طرف سے احتیاط کے باعث کورونا کیسز اندازے سے کم ہیں، بہت سے ملکوں کی نسبت ہمارے ملک کے حالات بہتر ہیں، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کورونا کب ختم ہو گا، جب تک اس وقت کی ویکسین تیار نہیں ہوتی وباءپر قابو پانے کے باوجود اس کا خطرہ موجود رہے گا، احساس کیش پروگرام کے تحت ملک بھر میں 66 لاکھ خاندانوں میں 81 ارب روپے کی رقم کی بلا امتیاز اور شفاف طریقہ سے انتہائی کم وقت میں تقسیم کی گئی، وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ مخیر حضرات کی ایک روپے کی امداد پر چار روپے شامل کرے گی، ریلیف فنڈ سے رقوم کی ادائیگی جلد شروع ہو گی، بیروزگار ہونے والے مزدوروں اور دیہاڑی دار افراد کی نشاندہی کےلئے یونین کونسل کی سطح پر ٹائیگر فورس کا ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کورونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے بعد اپنی ٹیم کے ہمراہ اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے پاکستان میں اندازے سے کم اموات ہوئی ہیں، تعاون کرنے پر عوام کو شکرگزار ہوں، دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ہمارے حالات بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ اپریل کے آخر میں ہسپتالوں پر دباﺅ ہو گا، وینٹی لیٹرز اور آئی سی یو بھرے ہوں گے لیکن صورتحال ایسی نہیں ہے، حالات بہتر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز ایران کے صدر سے بات ہوئی، ایران نے بھی سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں اور عوامی اجتماعات کے مقامات کو بند کیا لیکن چھوٹے کاروبار کو کھلا رکھا تاکہ دیہاڑی دار مزدوروں کو افلاس کا شکار ہونے سے بچایا جائے، ایران میں کورونا سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مصر کے صدر سے بات ہوئی ہے، انہوں نے بھی اجتماعات، سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیاں بند کیں تاہم ایسے کاروبار چلنے دیئے جن سے مزدوروں کا روزگار وابستہ تھا، پاکستان اور مصر میں اموات کی تعداد تقریباً ایک جیسی ہیں، اسی طرح مصر اور پاکستان کی معاشی صورتحال بھی ایک جیسی ہے، ہم نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کب تک کورونا چلے گا ایک بار پھر قابو پانے کے بعد یہ پھر پھیل سکتا ہے، جب تک اس کی ویکسین دستیاب نہیں ہوتی اس کے پھیلنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ لاک ڈاﺅن سے دیہاڑی دار مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو چکاہے، ایسے طبقات کی دیکھ بھال کے لئے احساس کیش ایمرجنسی پروگرام شروع کیا، دنیا میں اتنے کم وقت میں اتنے شفاف طریقے سے رقم تقسیم نہیں کی گئی، اس پروگرام کے تحت بلا متیاز امداد فراہم کی گئی، ڈیٹا کے جائزہ کے بعد میرٹ اور شفافیت پر رقوم تقسیم کی گئیں، اس پروگرام کے تحت سندھ میں سب سے زیادہ رقم تقسیم کی گئی، اس پروگرام کے تحت اب تک 66 لاکھ خاندانوں میں 81 ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو اس پروگرام کے تحت فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ریلیف فنڈ کی رقم کورونا متاثرین کے لئے رکھی گئی ہے ، اس امداد کے لئے بیروزگار افراد ایس ایم ایس کے ذریعے رابطہ کر سکیں گے۔ اس پروگرام کا آغاز جلد کیا جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ ہر یونین کونسل میں ٹائیگر فورس کا ایک ڈیسک قائم کیا جائے گا جو بیروزگار ہونے والے سفید پوش افراد کی نشاندہی کرے گی اور بے روزگار ہونے والے افراد کی رجسٹریشن کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز کے لئے بڑا پروگرام شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کورونا فنڈ میں مخیر حضرات ایک روپیہ جمع کرائیں گے تو چار روپے حکومت اس میں شامل کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہے، یہ ملک کا اثاثہ ہیں، بیرون ملک سے پاکستانیوں کی اکثریت وطن واپس آنا چاہتی ہے تاہم بعض مشکلات کا سامنا ہے، تمام سفارتخانوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دیکھ بھال کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر کو وینٹی لیٹرز سمیت دیگر طبی سامان کی کمی کا سامنا ہے تاہم پاکستان نے وینٹی لیٹرز اور ڈاکٹروں کے لئے ذاتی حفاظتی سامان کی تیاری شروع کر دی ہے اور اب اس کو برآمد بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہمارا وژن ہے، احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کے تحت اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار سے ہمیں مستقبل میں غربت کے خاتمہ کے لئے منصوبہ بندی میں مدد ملے گی، امریکہ اور یورپ میں دیہاڑی دار لوگ رجسٹرڈ ہیں، ان تک پہنچنا آسان ہے، امریکہ اور چین میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ 60 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں، ہمارے ملک کے مزدور غیر رجسٹرڈ ہیں جس کے باعث ان تک پہنچنا مشکل تھا لیکن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، آہستہ آہستہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کریں گے، پوری قوم مشکل وقت میں متحد ہو کر کامیابی حاصل کرے گی، ہم مزید شعبوں کو جلد کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق مساجد میں سماجی فاصلے پر عمل کرنا چاہیے، قوم کو نظم و ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، قوم کو معلوم ہے کہ اجتماع سے کورونا پھیلتا ہے، برا لگتا ہے کہ ہم مساجد کو بند کرنے کا حکم دیں بلکہ قوم کو ذمہ دار ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر وقت کورونا کے چیلنجز اور لاک ڈاﺅن سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غور کر رہے ہیں اور جلد اس صورتحال سے نکلیں گے، عوام کے تعاون کے بغیر حکومت وباءپر قابو نہیں پا سکتی۔