- الإعلانات -

وزیراعظم عمران خان کام نہیں کرنا چاہتے تو استعفیٰ دیکر کسی اور کو موقع دیں: بلاول بھٹو

وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم کورونا کی بات کریں اور مریضوں کی فکر کریں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے کتنی شرح اموات پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے پوچھا جائے کتنا شرح اموات کافی ہے۔ دو فیصد شرح اموات بہت بڑا نمبر ہے۔ شکر الحمداللہ ہم اٹلی ، ایران نہیں بنے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کرورونا وائرس نہیں بنایا۔ ہم اپنے ہیروز کی طرف دھیان دے رہے ہیں۔ وزیراعظم سے امید کرتے ہیں کہ کام کرو۔ ہم چاہتے ہیں سکولوں میں، کرایوں میں، یوٹیلٹی میں ریلیف ملے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم اس بیماری کا مقابلہ کر سکتے ہیں، پاکستان نے ہمیشہ ہر کرائسسز کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان، بھارت، افغانستان ملکوں کے درمیاں رہ کر جی رہے ہیں۔ اس بیماری سے نکلنے کے بعد تاریخ لکھی جائے گی کس ملک نے کیا کیا۔

پی پی چیئر مین کا پریس کانفرنس کے دوران مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے پاس وسائل نہیں ہے ، ہماری مدد کریں ، اگر ہم کامیاب ہونگے تو آپ کامیاب ہونگے۔

انہوں نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کام نہیں کرنا تو استعفیٰ دیں اور کسی اور کو کام کرنے دیں۔ اگر پی ٹی آئی کے خلاف کوئی سازش کر رہا ہے وہ خود کر رہے ہیں۔ ہماری معیشت کو سنبھالنے کی زمہ داری وفاقی حکومت کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ معیشت کوسنبھالنے کیلئےآج تک ہمیں وفاق سےایک روپیہ نہیں ملا۔ ایسی تشویشناک صورتحال میں وزیراعظم دن میں ایک بیان دیتےہیں رات میں دوسری بات کردیتےہیں۔ کون وزیر اعظم کوسمجھائےگاکہ ملک تشویشناک صورتحال سےدوچارہے۔ ہمارا مطالبہ ہے وفاقی حکومت کاصوبائی حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ٹیسٹنگ میں اضافے کرنے کے لیے ہے نہ ہی قرنطینہ سنٹر میں اضافے کرنے کے لیے تیار ہے، صحت اور معیشت سنبھالنے کے لیے کیلئے آج تک ہمیں وفاق سےایک روپیہ نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ کنٹینر سے اترو اور اپنا کام کرو۔ پختونخوا اور پنجاب حکومت کی تجویز پر لاک ڈاؤں کو بڑھایا گیا۔ وفاقی حکومت کی مدد کے بغیر کوئی اکیلا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہم سب سے مل کر اس وبا کے خلاف جنگ لڑنا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نےاپنی نالائقی اورنااہلی سےصوبائی حکومتوں کونقصان پہنچایاہے، پہلے دن سےوزیر اعظم روزانہ اجرت والوں کاذکرکرتےہیں، لیکن پیسے نہیں دیتے، اس مرض سے سب سے زیادہ خطرہ غریب عوام کو ہے۔

چیئر مین پی پی کا کہنا تھا کہ کراچی میں سے زیادہ غریب عوام رہتی ہیں، ڈر ہے کراچی کے حالات اٹلی اور نیو یارک جیسے نہ ہو جائیں۔ جہاں کام نہیں ہو رہا جہاں عوام کی زندگی کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے ان کے بارے کوئی سوال نہیں پوچھے جاتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صوبے کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو سب سے زیادہ محنت ہو رہی ہے۔ دن رات وفاقی حکومت کی طرف سے سندھ حکومت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے رائیونڈ اجتماع پر اپنے اقدام نہ اٹھا کر ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتی وزرا کی جانب سے مسلسل سندھ حکومت پر تنقید جاری ہے۔ ہم نے نیشنل یونٹی کی کوشش کی لیکن وفاقی حکومت نے ہماری کوشش کو سبوتاژ کیا ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ وزیراعظم میرے صوبے اور عوام کو نشانے پر رکھتے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کا جواب نہیں دیا۔ پہلے دن سے وزیراعظم اور ان کے نمائندے میرے صوبے پر مسلسل حملہ کرتے ہیں۔ اس وبا سے ہم نے لڑنا ہے، میں سیاسی اختلاف کو بھول جاتا ہوں۔

پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ میرے ملک کا وزیراعظم عمران خان ہے۔ وفاقی حکومت کو اپنی زمہ داری اٹھانی پڑے گی۔ دو مہینے گزر چکے ہیں ، لاک ڈاؤن ہر صوبے میں ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز، سٹاف کی صحت و جاں کی حفاظت کی جائے۔