- الإعلانات -

پاکستان ریلوے کا 10 مئی سے ٹرین آپریشن جزوی بحال کرنے کا فیصلہ

پاکستان ریلوے نے ٹرین آپریشن 10 مئی سے جزوی طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ٹرین آپریشن کی بحالی سے قبل وزیر اعظم عمران خان سے حتمی منظوری لی جائے گی۔
وزارت ریلوے نے ٹرین آپریشن کی تیاریاں مکمل کرنے کے لیے ریلوے انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ریلوے پہلے مرحلے میں چاروں صوبوں میں 24 ٹرینیں خصوصی انتظامات کے ساتھ چلائے گا اور یہ انتظامات 8 مئی تک مکمل کیے جائیں گے۔ٹرین آپریشن شروع ہونے کے بعد مسافر ٹکٹ صرف آن لائن بکنگ کے ذریعے ہی حاصل کر سکیں گے، ٹرین کی 60 فیصد سیٹیں بُک ہونے کے بعد بکنگ روک دی جائے گی جبکہ سماجی فاصلہ پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

ٹرینیں چلنے کی صورت میں مسافروں کو ٹرین کی روانگی سے ایک گھنٹہ قبل اسٹیشن پہنچنا ہوگا، اسٹیشن سے 200 میٹر تک کے ایریا میں غیر ضروری افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ مسافروں کے پاس اپنے ماسک، گلوز، سینیٹائزر اور صابن ہونا لازمی ہوگا۔

مسافروں کو سینیٹائزر واک تھرو گیٹ سے گزارا جائے گا جس میں ان پر اسٹیشن میں داخلے سے قبل سینیٹائزر سپرے کیا جائے گا، خصوصی ٹرینیں چلنے کی صورت میں مسافروں کو ٹرین میں دوسرے مسافروں سے میل جول کی اجازت نہیں ہوگی، مسافر ٹرین میں ایک مسافر کے فاصلے سے بیٹھیں گے جبکہ ٹرین عملے کو خصوصی کٹس ملیں گی۔

وزارت ریلوے نے ٹرین آپریشن کے دوران ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی قرار دیا ہے، کوتاہی کی صورت میں ریلوے قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
واضح رہے کہ مارچ میں تیزی سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد وزارت ریلوے نے پہلے متعدد مسافر ٹرینیں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 24 مارچ کو مسافر ٹرین آپریشن مکمل طور پر معطل کردیا گیا تھا جس میں اب تک کئی بار توسیع ہوچکی ہے۔

30 مارچ کو پاکستان ریلوے نے تمام بزنس کلاس اور ایئرکنڈیشنڈ سلیپر کوچز کو کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے موبائل آئسولیشن وارڈز میں تبدیل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں 185 ممالک سے زائد میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس سے جہاں اب تک 35 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور ڈھائی لاکھ ہلاک ہوچکے ہیں وہیں یہ وائرس پاکستان میں بھی یومیہ سیکڑوں لوگوں کو متاثر کرنے اور متعدد کی اموات کا سبب بن رہا ہے۔
ملک میں اب تک کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 21838 ہوچکی ہے جبکہ 505 افراد اس وبا سے انتقال کرچکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس وبا پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جس میں جزوی لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں شامل ہیں تاکہ لوگ ایک دوسرے سے میل جول سے اجتناب کریں اور وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔

تاہم اس کے باوجود ملک میں عوام کی بڑی تعداد اب تک اس وائرس سے متاثر ہوچکی ہے اور ان کیسز میں ایک بڑی تعداد مقامی طور پر منتقلی کے کیسز کی ہے۔