- الإعلانات -

سول ہسپتال کے ڈاکٹر کا ’غلط اندازہ‘ ڈاکٹر فرقان کی موت کی وجہ بنا، رپورٹ

سندھ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر فرقان الحق کی موت کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سول ہسپتال کے ایک میڈیکل افسر کے ’غلط اندازے‘ کو ڈاکٹر کی موت کی وجہ قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر فرقان کی وفات کے بعد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی لیکن شہر کے کئی ہسپتالوں میں جانے کے باوجود انہیں یہ سہولت میسر نہیں آئی۔

اس دعوے پر حکومت سندھ نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا کر اسے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

چنانچہ کمیٹی کی رپورٹ بدھ کی صبح جاری کردی گئی جس کے مطابق سول ہسپتال کراچی میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر، جس نے مریض کا معائنہ کیا تھا، غفلت دکھائی اور آئی سی یو میں 9 بیڈ موجود ہونے کے باوجود انہیں ایڈمٹ نہیں کیا گیا۔تحریر جاری ہے‎

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ابتدا میں ڈاکٹر فرقان کسی بھی ہسپتال میں داخل ہونے سے گریز کررہے تھے

ڈاکٹر فرقان کی موت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ انہیں یکم مئی کو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد سندھ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ایک ریپڈ ریسپانس ٹیم 2 مئی تک مریض سے رابطے میں تھی۔

3 مئی کو ڈاکٹر فرقان کی طبیعت بگڑ گئی اور ان کی بھتیجی نے انہیں انڈس ہسپتال آنے کا مشورہ دیا تاہم اسے نظر انداز کرتے ہوئے ڈاکٹر نے اپنے ساتھی ڈاکٹر عامر کے مشورے پر سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ (ایس آئی یو ٹی) میں داخل ہونے کا انتظام کر کے وہاں جانے کا ارادہ کیا۔

تاہم جب امن ایمبولینس ان کے پاس پہنچی تو وہ ڈاکٹر فرقان الحق کو ایس آئی یو ٹی کے بجائے سول ہسپتال لے گئی۔

سول ہسپتال میں ڈاکٹر فرقان کو ایمرجنسی سے کورونا وائرس کنٹرول روم میں منتقل کیا گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر جگدیش نے ان کا معائنہ کیا۔

تاہم ڈاکٹر جگدیش نے انہیں داخل کرنے کے بجائے متعلقہ ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا جس نے ان کے لیے بیڈ کا انتظام کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مریض ایمبولینس میں بیٹھ کر کسی اور ہسپتال جانے کے بجائے گھر چلے گئے جہاں پہنچ کر ان کی حالت بگڑ گئی جس پر انہیں ٹرائی میکس ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ نجی طور پر کام کرتے تھے‘۔

ٹرائی میکس میں جس ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا ان کی رائے یہ تھی کہ ڈاکٹر فرقان کو خصوصی توجہ اور ممکنہ طور پی وینٹی لیشن کی ضرورت ہے، جس پر وہ ’تنگ آ کر‘ ایک مرتبہ پھر گھر چلے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ’مریض کے اہلِ خانہ سے بات نہ ہوسکی لیکن اس کے بعد ڈاکٹر فرقان کو ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال (اوجھا) کیمپس لے جایا گیا جہاں ان کی موت کی تصدیق کی گئی‘۔

رپورٹ میں کمیٹی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ رابطے کا شدید فقدان تھا، ڈاکٹر جگدیش کو انہیں سول ہسپتال میں داخل کرنا چاہیے تھا کیوں کہ ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اوجھا یا کسی اور ہسپتال جاتے‘۔

رپورٹ میں ڈاکٹر جگدیش کے خلاف ان کے ’غلط اندازے‘ پر انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی جس کی وجہ سے مریض کی جان گئی۔

دوسری جانب یہ دعویٰ کہ سندھ حکومت کو وینٹی لیٹر کی کمی کا سامنا ہے اسے صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو کی میڈیا کووآرڈینیٹر نے پہلے ہی مسترد کردیا تھا کہ سول اور جناح ہسپتال میں وینٹیلیٹرز اور بستر موجود ہیں۔

خیال رہے کہ 4 مئی کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا تھا کہ حال ہی میں کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ریٹائر ہونے والے ڈاکٹر فرقان کورونا وائرس سے انتقال کر گئے کیونکہ شہر کے کئی ہسپتالوں کا دورہ کرنے کے باوجود انہیں آئسولیشن وارڈ اور وینٹی لیٹر کی سہولت میسر نہ آ سکی۔

ڈاکٹر فرقان کراچی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے تیسرے ڈاکٹر تھے تاہم وہ کورونا کے مریضوں کا علاج نہیں کررہے تھے۔

ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا کہ ڈاکٹر فرقان دل کے مریض تھے اور وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہوں نے خود کو گھر پر آئسولیٹ کر لیا تھا۔

ڈاکٹر قیصر نے بتایا کہ ہفتے کو ڈاکٹر فرقان کو سانس لینے میں شدید دشواری پیش آرہی تھی اور اتوار کو انہوں نے ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل ہونے کی بہت کوشش کی اور اس سلسلے میں چند ہسپتالوں کا دورہ بھی کیا لیکن انہیں کہیں داخل نہیں کیا گیا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو پورا دن مختلف ہسپتالوں کے چکر لگانے کے باوجود ڈاکٹر فرقان کو کہیں بھی وینٹی لیٹر کی سہولت میسر نہ آئی۔

ڈاکٹر قیصر نے بتایا کہ ڈاکٹر فرقان نے اپنی آواز موبائل پر ریکارڈ کر لی تھی جس میں وہ ایمبولینس ڈرائیور کو وینٹی لیٹر کا بندوبست کرنے کا کہہ رہے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا اور ڈاکٹر فرقان اتوار کی شام چار بجے چل بسے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر فرقان شہر قائد میں کورونا کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تیسرے ڈاکٹر ہیں جہاں ان سے قبل ڈاکٹر عبدالقادر سومرو اور ڈاکٹر زبیدہ ستار بھی وائرس کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 30 اپریل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 8 ہیلتھ ورکرز کورونا وائرس کاشکار بن کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ملک میں طبی برادری میں ہوئی پہلی موت گلگت بلتستان میں سامنے آئی تھی جس میں نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض وائرس سے متاثر ہوکر چل بسے تھے۔

ملک میں جاں بحق ہونے والے ہیلتھ ورکرز میں سے 3 سندھ، 2 گلگت بلتستان اور بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں ایک ایک ہیلتھ ورکر جاں بحق ہوا۔