- الإعلانات -

پشاور ہائی کورٹ کا ڈاکٹروں کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کرنے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کے خلاف ہنگامہ آرائی کے الزام میں درج کی گئی ایف آئی آر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 27 ستمبر 2019 کو ڈاکٹروں کے خلاف درج ایف آئی آر کو ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کی اور 4 صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ سنادیا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں پولیس افسر، لیڈی کانسٹیبل اور خاتون رپورٹر کے زخمی ہونے کے نشانات نہیں ملے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس آفیسرز کے زخمی ہونے کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جبکہ احتجاج کے دوران صرف ڈاکٹر ہی زخمی ہوئے تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران ڈاکٹر، پولیس کے ہاتھوں زخمی ہوئے تھے جبکہ احتجاج ڈاکٹروں کا آئینی حق تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے لکھا کہ ڈاکٹروں کے خلاف درج مقدمے کی فائل میں کوئی ایسا مواد نہیں جس پر ان کو سزا دی جائی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اس نکات کو سامنے رکھنے کے بعد مقدمے میں پٹیشنرز کے دعووں کو جھوٹ اور بے بنیاد ہونے کا امکان خارج نہیں کیا جاسکتا اس لیے 27 ستمبر 2019 کو ڈاکٹروں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو ختم کردی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ 27 ستمبر 2019 کو خبیرپختونخوا (کے پی) حکومت کی جانب سے اسمبلی سے منظور کردہ بل کے خلاف لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں احتجاج کرنے والے 26 ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا تھا اور کئی گرفتار کرکے ڈاکٹروں کو جیل بھیج دیا گیا۔

کپیٹل سٹی پولیس پشاور نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی، کار سرکار میں مداخلت، املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری اہلکاروں پر حملہ و مزاحمت، ضرر رسانی اور بلوہ کی دفعات 148، 149، 186، 188، 337، 353، 427 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا اور اس کے علاوہ روڈ بلاک کرنے پر بھی الگ ایف آئی آر درج کردی گئی تھی۔

ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ تھانہ خان رازق شہید کے ایس ایچ او محمد نور کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا

ایف آئی آر میں پولیس نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں نے ہسپتال کے پر امن ماحول کو تباہ کیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں ایک لیڈی اے ایس اۤئی کانسٹیبل اور ایک رپورٹر زخمی ہوا، مجموعی طور 15 میڈیکل اسٹاف اور 8 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ 27 ستمبر کو ڈاکٹر صوبائی حکومت کے مجوزہ ریجنل وڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بل 2019 کے خلاف احتجاج کے لیے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں جمع ہورہے تھے کہ اسی دوران پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کیا تھا۔

پولیس کی کارروائی سے ڈاکٹروں اور ایک خاتون رپورٹر سمیت پیرامیڈیکل اسٹاف کے کم ازکم 10 ارکان زخمی ہونے رپورٹس آئی تھیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈے اے) کے ترجمان ڈاکٹر اظہار کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں وائی ڈی اے کے چیئرمین ڈاکٹر زبیر بھی شامل ہیں اس کے علاوہ پولیس کے تشدد سے صدر ڈاکٹر رضوان کنڈی کے بازوں پر بھی زخم آئے ہیں۔

ڈاکٹر اظہار نے دعویٰ کیا تھ کہ پیرامیڈکس اور خواتین نرسز سمیت 15 زائد مظاہرین کو گرفتار کر لا گیا ہے۔