- الإعلانات -

سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں 90 روز کی توسیع

حکومت سندھ نے صوبے میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی درخواست کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے وفاق نے اختیارات میں 90 روز کی توسیع کردی۔

اعلامیے کے مطابق سندھ رینجرز کو کراچی سمیت پورے صوبے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 4 (3) کے تحت 90 روز کے لیے خصوصی اختیارات دیے جاتے ہیں۔

مذکورہ توسیع ملنے کے بعد پاکستان رینجرز (سندھ) کو 2 اپریل 2020 سے لے کر 30 جون 2020 تک خصوصی اختیارات حاصل ہوں گے۔تحریر جاری ہے‎

خیال رہے کہ سندھ میں رینجرز کو آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت قیام کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کراچی میں رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت قیام کے علاوہ خصوصی اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔

یہ اختیارات کراچی میں جرائم پیشہ عناصر، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں، ان سے تفتیش اور ان کی بیخ کنی سے متعلق ہیں، یہ اختیارات رینجرز کو 90 روز کے لیے دیے جاتے ہیں اور اس میں ہر تین ماہ بعد توسیع کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی سالوں سے رینجرز کے اختیارات میں مستقل توسیع کی جارہی ہے۔

تاہم اس وقت کورونا کی وبا کی صورتحال میں ڈاکٹرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی فرنٹ لائن پر خدمات میں مصروف ہیں اور لاک ڈاؤن پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کے ہمراہ رینجرز کے جوان بھی سرگرم نظر آ رہے ہیں۔

ماضی میں سندھ میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملات پر کافی اختلافات رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں رینجرز اختیارات کے معاملے پر سندھ حکومت نے متعدد مرتبہ وزارت داخلہ سے اپنے تحفطات کا اظہار کیا اور یہ معاملہ ہر تین ماہ بعد تنازعات کا شکار ہوجاتا تھا جبکہ ماضی میں رینجرز کے پولیسنگ اختیارات کا معاملہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان لفظی جنگ کا باعث بھی بنتا رہا ہے۔

سندھ میں رینجرز اختیارات میں توسیع کے معاملے نے چند برس قبل اُس وقت شدت اختیار کی تھی جب صوبائی حکومت نے ان اختیارات میں توسیع میں پس و پیش سے کام لیا تھا۔

اس موقع پر قومی اسمبلی میں معاملے پر بحث کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے رینجرز کے خصوصی اختیارات کو سندھ بھر میں توسیع دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اراکین نے اس مطالبے کو آئین کے آرٹیکل 147 کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔