- الإعلانات -

خیبر پختونخوا میں تعلیمی ادارے وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق کھولیں گے، اجمل وزیر

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے میں تعلیمی ادارے وفاق کی ہدایات کے مطابق کھولے جائیں گے.

پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اسکول کھولنے کے معاملے پر خود سے فیصلہ نہیں کرے گی اور جو بھی وفاقی کی ہدایات ہوں گی اس پر عمل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے اسکولز، یونیورسٹیز سمیت تمام تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) اجلاس کے بعد وزیراعظم اور دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو ہمیں طلبہ کی صحت کا مکمل خیال کرنے اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔تحریر جاری ہے‎

تاہم ان کے اس اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے نجی اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے منتخب اراکین نے کہا تھا کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بیل آﺅٹ پیکیج دے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلانے کیساتھ ساتھ عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

صوبے میں ٹرانسپورٹ کھولنے کے بارے میں مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز سے اضلاع کے اندر اور بین الاضلاع ٹرانسپورٹ کھولنے پر بات چیت کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ ہوگا تو اس سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

لاک ڈاؤن کے خاتمے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے فیصلے پر عمل در آمد کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں مارکیٹیں 5 روز تک کھلی رہیں گی تاہم ہفتہ اور اتوار بند رہیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولی وینائل کلورائیڈ (پی وی سی) پائپس، المونیم اور اسٹیل، پینٹ اور الیکٹرکل آلات کی صنعتوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ (9 مئی) سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان کیا تھا۔

کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کا نفاذ

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔

اب تک ملک میں مجموعی طور پر 24 ہزار 146 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 559 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔

واضح رہے کہ 13 مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی نے ملک میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحد بند کرنے اور 23 مارچ کو یوم پاکستان کی تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد 14 روز جبکہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے 5 اپریل تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

بعدازاں وزیر اعظم عمران خان نے 14 اپریل نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے عوام کے تحفظ اور وائرس کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ یہ وائرس کسی بھی وقت پھیل سکتا ہے تو ہمیں احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، سب کو احتیاط کرنی چاہیے اور ساتھ ہی انہوں نے مخصوص صنعتیں کھولنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد 24 اپریل کو وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کردی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا تھا کہ رمضان کا مہینہ کورونا کے حوالے سے فیصلہ کن مہینہ ہے، اگر ہم ڈاکٹرز کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے تو عید کے بعد صورتحال بہتر ہونا شروع ہوجائے گی اور ہم روزگار کی بندشوں میں نرمی لاسکیں گے۔