- الإعلانات -

بیرون ملک سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ بیرون ملک پھنسے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں تاہم قرنطینہ کی سہولیات کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔

ڈان نیوز سے بذریعہ فون غیررسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے قرنطینہ کی سہولیات کی فراہمی پر پاکستانیوں کی واپسی تیز ہوسکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک پھنسے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس قرنطینہ کی سہولیات کی کمی کا مسئلہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صوبوں سے قرنطینہ سہولیات کے لیے مشاورت جاری ہے۔
دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے تمام پاکستانیوں کو 3 دن قرنطینہ میں گزارنا ضروری ہے، ان افراد کے کورونا ٹیسٹ کے منفی آنے کی صورت میں ہی انہیں گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے 60 ہزار سے زائد پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں جبکہ سعودی عرب سے 15 ہزار سے زائد پاکستانی واپسی کے منتظر ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران اور چین کے شہر ووہان کے لیے جلد پروازیں شروع کردی جائیں گی۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے کہیں لاک ڈاؤن تو کہیں سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں جبکہ کئی ممالک نے فلائٹ آپریشن بھی معطل کردیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس کورونا وائرس سے دنیا کی معیشتوں کو زبردست دھچکا لگا ہے اور کروڑوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں، جس میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

ان دونوں وجوہات کے باعث متعدد پاکستانی بیرون ملک پھنس گئے ہیں اور وہ وطن واپسی کے خواہاں ہے اور اس سلسلے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے خصوصی پروازیں بھی چلائی جارہی ہیں، جس سے اب تک ہزاروں پاکستانی وطن واپس آچکے ہیں۔

اپنی گفتگو کے دوران لائن آف کںٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت ظلم و ستم پر بھی انہوں نے بات کی۔

عائشہ فاروق کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی بڑھ چکی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں جاری کورونا وبا کے دوران بھی بھارت کی جانب سے جنگی جنون میں لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی کے مختلف سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں متعدد بے گناہ کشمیری زخمی ہوچکے ہیں جبکہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے گھروں کو بھی کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل ہورہے ہیں اور وہاں کشیدگی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس 5 اگست کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اسے 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

ساتھ ہی قابض فوج نے وہاں مزید نفری تعینات کرتے ہوئے کرفیو اور سخت پابندیاں عائد کردی تھیں جبکہ مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے تھے۔

بھارتی فوج کی جاری اس سخت پابندیوں اور محاصرے کو 9 ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے اور مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اسی عرصے میں بھارت نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو مزید بڑھا دیا اور گزشتہ دنوں ایک جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کے اہم کمانڈر ریاض نائیکو کو جاں بحق کردیا، جس کے بعد وہاں حالات مزید کشیدہ ہیں اور کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔