- الإعلانات -

پاکستان 08 مئی ، 2020ویب ڈیسک صوبے میں کرفیو کے نفاذ سے متعلق کوئی تجویز زیرغور نہیں: ترجمان بلوچستان حکومت

بلوچستان میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافے پر صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ صوبے میں کرفیو کے نفاذ سے متعلق کوئی تجویز زیرغور نہیں۔

گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا تھا کہ ہم نے تجویز دی ہے کہ بلوچستان میں 15 سے 20 دن کے لیے کرفیو لگا دیا جائے کیونکہ لوکل ٹرانسمیشن کیسز زیادہ ہو رہے ہیں اور اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدآرمد نہ ہوا تو 11 جولائی تک بلوچستان کے 11 لاکھ تک افراد کورونا سے متاثر ہو جائیں گے۔

ملک میں کورونا سے مزید 31 افراد جاں بحق، 1908 نئے کیسز بھی سامنے آگئے
’لاک ڈاؤن میں سختی نہ ہوئی تو بلوچستان میں جولائی تک کورونا کیسز 11 لاکھ ہوسکتے ہیں‘
وزیراعظم کا ملک بھر میں 9 مئی سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان
اس پر صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر انتہائی تشویش ہے لیکن صوبے میں کرفیو کے نفاذ کے حوالے سے فی الوقت کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی تاجروں اور عوام کے تعاون سے مشروط ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طے کردہ ضابطہ کار پر عملدرآمد کی صورت میں ایک دو روز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کریں گے، وفاقی حکومت کے کوروناکی روک تھام سے متعلق قومی بیانیے کے ساتھ ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں کورونا سے 24 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 1725 ہے جن میں سے زیادہ تر کیسز کوئٹہ میں رپورٹ ہوئے ہیں اور وہاں 19 مئی تک لاک ڈاؤن ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاؤن کو 9 مئی سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا تھا جبکہ انہوں نے چھوٹی مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔