- الإعلانات -

پاکستان 08 مئی ، 2020ویب ڈیسک قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں عدم شمولیت کیخلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شہداء فاؤنڈیشن کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر طارق اسد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اقلیتی کمیشن میں تمام اقلیتوں کو شامل کیا جانا چاہیے، کابینہ نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کرکے اسے واپس لے لیا۔

عدالت نے استفسار کیاکہ کابینہ کے فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ کیا آپ نے کسی نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے؟

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نوٹیفکیشن نہیں ملا مگر یہ بہت حساس معاملہ ہے اقلیتوں کو حقوق ملنے چاہیں، عدالت قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے احکامات جاری کرے۔

وفاقی کابینہ نے قومی اقلیتی کمیشن کی منظوری دیدی، کوئی قادیانی شامل نہیں
ایک لابی قادیانیوں کو چور دروازے سے حکومت میں داخل کرنے کی کوشش کر رہی ہے: سراج الحق
وزیر مذہبی امور کی قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی تردید
عدالت نے کہا کہ آپ نے کچھ ریکارڈ پیش نہیں کیا، جلد بازی میں درخواست دائر کرنے کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا آپ متاثرہ فریق ہیں؟ اقلیتوں سے متعلق کمیشن کس قانون کے تحت تشکیل دیا جاتا ہے؟ عدالت نے قانون دیکھنا ہے، معاملے کی حساسیت کو نہیں۔

طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہاکہ حکومتی فیصلے سے عالمی سطح پر تاثر بن رہا ہے کہ یہاں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں۔

اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے پر کسی کو شک نہیں، کیا آپ ان کی نمائندگی کررہے ہیں؟ آپ بتائیں کہ کس قانون کے تحت ہر اقلیت کو کمیشن میں شامل کرنا ضروری ہے؟

جسٹس محسن اختر نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل قانونی نہیں، انتظامی معاملہ ہے، اقلیتوں کے حقوق تسلیم شدہ ہیں، اگر اقلیتی حقوق نہیں مل رہے تو انہیں خود عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا تھا کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے سے متعلق خبر بے بنیاد ہے۔

اس کے بعد 5 مئی کو وفاقی کابینہ نے قومی اقلیتی کمیشن کی منظوری دی تھی جس میں کوئی قادیانی شامل نہیں۔