- الإعلانات -

ووہان میں پھنسے پاکستانی 18 مئی سے وطن واپس آئیں گے، زلفی بخاری

حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ خصوصی طیاروں کے ذریعے کورونا وائرس کے ابتدائی مرکز چین کے شہر ووہان سے پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے وہاں پھنسے پاکستانیوں کو ’بہادر سپاہی‘ کہہ کہ پکارا۔

واضح رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پہلی پرواز 18 مئی کو پاکستانیوں، جن میں زیادہ تر طلبہ ہیں، ان کو لے کر وطن واپس پہنچے گی اور اس پرواز کے ذریعے تقریباً 250 افراد کی واپسی کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ 20 جنوری کو دنیا میں پہلے لاک ڈاؤن کا سامنا کرنے والے ووہان اور چین کے صوبے ہوبے کے دیگر شہروں میں زیر تعلیم پاکستانیوں نے حکومت سے وہاں سے انہیں نکالنے کی اپیل کی تھی۔

اس واپسی کے لیے پھنسے طالب علموں کے ساتھ ساتھ ان کے اہلخانہ کی جانب سے بھی متعدد درخواستیں کی گئی تھیں تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ وہ انہیں فوری طور پر واپس نہیں لائیں گے اور اس معاملے پر چین کی جانب سے پیش کیے گئے طریقہ کار اور گائیڈ لائنز پر عمل کریں گے۔

بعد ازاں فروری کے مہینے میں دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی خصوصی درخواست پر چینی حکام نے بیجنگ میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے 2 رکنی خصوصی ٹاسک فورس کو مختلف جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے ملاقات اور بذات خود ان کی صحت و تحفظ کے حوالے سے معلومات لینے کے لیے ووہان جانے کی اجازت دی تھی۔

جس کے بعد دونوں سفارتکار زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کے پاس گئے اور ان کی صحت اور ضروریات کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کی۔

مارچ کے مہینے میں صدر مملکت عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کا دورہ کیا تھا اور ووہان میں پھنسے طالب علموں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کی تھی۔

دورے سے واپسی پر وزیر خارجہ اور صدر مملکت نے میڈیا کو بریفنگ میں کہا تھا کہ طالب علم بہتر حالت میں ہیں اور صرف پاکستانی کھانے کی درخواست کر رہے ہیں۔

جس کے بعد پاکستان کی طرف سے وہاں کھانا بھی بھیجا گیا تھا جبکہ 28 مارچ کو چین نے ووہان سے لاک ڈاؤن ختم کیا تھا اور 8 اپریل کو پابندیاں مکمل طور پر ختم کردی گئی تھیں اور چند طالب علموں کو ساتھ کھانا بناتے اور کھاتے دیکھا گیا تھا۔