- الإعلانات -

‘ہم لاک ڈاؤن کے فیز 2 میں جارہے ہیں عوام کی زندگی ان کے اپنے ہاتھ میں ہے’

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم لاک ڈاؤن کے فیز 2 میں جارہے ہیں عوام کی زندگی ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہم نے 5 ہزار 498 ٹیسٹ کیے ہیں جس کے بعد مجموعی ٹیسٹ کی تعداد 87 ہزار 108 ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار 80 لوگ مثبت آئے جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے اور پہلی بار کسی ایک صوبے میں ایک دن میں ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اس کی بلندی کی طرف جارہے ہیں جو باعث تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک ان نئے کیسز کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 10 ہزار 771 ہوگئی ہے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں 80 لوگ صحتیاب ہوئے جس کے بعد یہ تعداد 2020 ہوگئی ہے جبکہ مزید 4 افراد بھی اپنی زندگی گنواں چکے ہیں جس کے ساتھ ہی مجموعی اموات 180 ہوگئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اس وقت 8 ہزار 571 لوگ زیرعلاج ہیں، جس میں 7 ہزار 432 ہوم آئیسولیشن، 609 حکومتی آئیسولیشن سینٹر اور 530 مختلف ہسپتالوں میں ہیں جس میں 103 کی حالت تشویشناک جبکہ 23 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

اعداد وشمار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی شہر تو ویسے ہی ایک ہاٹ اسپاٹ ہے۔

کراچی کے اضلاع کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جنوبی میں 143، شرقی میں 113، ملیر میں 133، وسطی میں 78، کورنگی میں 61 اور غربی میں 55 لوگ وائرس سے متاثر ہوئے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں آنے والے 1080 کیسز میں سے 583 کراچی میں آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بات جو باعث تشویش ہے وہ خیرپور میں 24 گھنٹوں میں مزید 265 لوگ متاثر ہوئے ہیں جس سے وہاں تعداد 519 ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیرپور کا ایک تعلقہ پیرجو گوٹھ ہے جہاں 10 روز پہلے ایک مشتبہ خاتون اسکول ٹیچر حیدرآباد سے آئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ واپس آئیں تو ان کی طبیعت خراب تھی اور جب وہ ہسپتال میں گئیں تو وہاں ان کا علاج کیا گیا اور اسی دوران ان کا انتقال ہوگیا، تاہم ان کا کورونا کا ٹیسٹ نہیں کیا جاسکا تھا، اسی وجہ سے ان کی موت کو کورونا کی موت میں شامل نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ان علامات کے ساتھ ایک موت ہوئی ہے تو فوری طور پر حکومت سندھ نے ان ڈاکٹرز کو اور خاتون کے گھر والوں اور جنازے میں شریک ہونے والوں کی ٹیسٹنگ کی اور ابتدائی طور پر 24 سے 25 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پھر ان متاثرہ افراد کے رابطے میں آنے والوں کو تلاش کیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ خود کو گھروں میں آئسولیٹ کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ایک ماحول بنا ہوا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی ایسی وبا نہیں ہے جبکہ کچھ لوگ تو بدقسمتی سے اسے پروپیگینڈا کے طور پر استعمال کر رہے ہیں کہ حکومت پروپیگینڈا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا اثر یہ ہوا کہ صرف پیر جو گوٹھ میں 246 کیسز آئے اور اس جگہ کیے گئے ٹیسٹ کے 55 فیصد مثبت آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ جلد از جلد مثبت مریضوں کو آئیسولیٹ کیا جائے اور پیر جو گوٹھ میں ایک سخت لاک ڈاؤن کریں، میری وہاں کے لوگوں سے درخواست ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 2، 3 دن پہلے کہا تھا کہ کراچی میں کھلنے والی دکانوں پر ٹیسٹنگ کی جائے گی اور ہم نے وہاں ٹیسٹنگ کی جس میں کچھ کیسز مثبت آئے۔

انہوں نے کہا کہ احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے، لوگ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور اگر ضرورت کے تحت باہر نکلیں تو سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور ماسک کو لازمی پہنیں جبکہ گھر واپسی پر بزرگوں اور بچوں سے دور رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کے فیز 2 میں جارہے ہیں، آپ کی زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ بالکل باہر نہ نکلیں کیونکہ آپ کی زندگی سے زیادہ کوئی اور چیز قیمتی نہیں ہے۔