- الإعلانات -

دنیا کو وہ نظر آنا شروع ہو گیا جو عمران خان دیکھ رہے تھے، اسد عمر

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں کورونا کے مسئلے پر اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ آج بھی جاری رہا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرپرسن کے رکن امجد علی خان کی زیر صدارت ہوا۔ غلام سرور خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنے خلاف نیب تحقیقات کا خیر مقدم کرتا ہوں، نیب خودمختار ادارہ ہے جسے بلاتفریق انکوائری کرنی چاہیے، اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی بنچوں اور وفاقی کابینہ کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ہم حساب دینے کے لیے تیار ہیں۔

غلام سرور نے اپوزیشن ارکان پارلیمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شرم کرو،حیا کرو، صبر برداشت کرو،چوروں کو حالات کا سامنا کرنا چاہیے، جس جس نے گاجریں کھائی ہیں اس کے پیٹ میں درد ہوگا،ملک لوٹنے والوں کا، تین تین بار وزیراعظم اور چھ چھ بار وفاقی وزیر بننے والوں کا احتساب ضرور ہونا چاہیے، جو چھ چھ بار وزیر رہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے یہ چیخ و پکار نہیں ہونی چاہیے۔
وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وبا نے پھیلنا ہے اور ہم نے اس کیساتھ چلنا ہے ، وزیراعظم عمران خان کا موقف تھا کہ لاک ڈاؤن سے بے روزگاری، بھوک اور معاشی بدحالی آئیگی، امریکا کی 40 ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی اور لوگوں کو روزگار پر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، دنیا کو وہ نظر آنا شروع ہو گیا جو عمران خان دیکھ رہے تھے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید نہیں کرتے، پاکستان میں وبائی بیماریوں کے ماہرین اور ڈیٹا سائنٹسٹ موجود ہیں انکی مدد سے ہم کام کر رہے ہیں، اللہ نے کرم کیا آج وبا بڑھنے کے باوجود حالات قابو سے باہر نہیں۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو وفاقی حکومت امداد کر رہی ہے، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ، آپ کی ضروریات پوری کرنی کے لیے اگر وہ ماں کہیں جاتی ہے تو کہتے ہیں بھیک مانگ رہے ہیں، کورونا سے جنگ سے پہلے ضروری ہے دلوں کے مرض ختم کریں، چاہیے کہ تھا قوم بن کرفیصلے کرتے،آئندہ بجٹ کا فوکس کورونا ہوگا، لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں تھا یہ عارضی حل ہوتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت انا کے کوہ ہمالیہ پر بیٹھی ہے ، ناتجربہ کاری، نا اہلی اور انا پرستی کی انتہا ہے، حکومت کورونا وائرس سے کیا مقابلہ کرے گی، یہ کورونی ازم (اقربا پروری) کا شکار ہے، 22 ماہ ہوگئے کوئی پالیسی واضح نہیں، وزیر اعظم نے قوم کو اکٹھا کرنا تھا مگر انہوں نے سندھ کے خلاف توپیں چلا دیں،کورونا کو بھی سیاسی فٹ بال کے طورپر استعمال کیا گیا ہے۔