- الإعلانات -

پاکستان میں لاک ڈاؤن سے 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب تک پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن سے 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ مجھے ڈاکٹروں اور نرسز پر موجود دباؤ کا احساس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جانب کورونا اور دوسری جانب معاشرے پر اس کے اثرات کو دیکھنا پڑتا ہے، اگر کوئی مجھے یقین دلادیتا کہ ایک یا 3 ماہ تک لاک ڈاؤن سے وائرس ختم ہوجائے گا تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں تھی ہم ملکی وسائل کا استعمال کرکے ایسا کرنے کی کوشش کرتا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال تک کورونا وائرس کی کوئی ویکسین نہیں تیار ہوسکتی اور وائرس کا اس کے بغیر علاج نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن یہ ہے کہ لوگوں کو بند کردیں وائرس نہیں پھیلے گا لیکن وائرس ختم نہیں ہوگا، ووہان اور جنوبی کوریا میں دوبارہ کیسز سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وائرس تو ہے جب بھی لوگوں کو ملنے کا موقع دیں گے تو وائرس پھیلے گا ہمیں اس وائرس کے ساتھ گزارا کرنا ہوگا

عمران خان نے کہا کہ کیا ہم ملک میں مسلسل لاک ڈاؤن نافذ کرسکتے ہیں؟ پاکستان میں لاک ڈاؤن سے متاثر لوگوں کے لیے مشکل سے 8 ارب ڈالر کا پیکج دیا، امریکا نے 2200 ارب ڈالر، جرمنی نے ایک ہزار ارب یورو اور جاپان نے 1200 ارب ڈالر کا پیکج دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا ہم امریکا، جرمنی اور چین جیسا لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے اس وقت 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں ہماری میڈیکل کمیونٹی بتائے کہ ہم ان کا کیا کریں، ہم کتنے عرصے تک 12 ہزار روپے پہنچا سکتے ہیں اور یہ 12 ہزار روپے کب تک ایک خاندان کے لیے کافی ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کیسز بڑھنے ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے ذریعے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کا تجزیہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز تو بڑھیں گے لیکن اگر ان لوگوں کو روزگار نہ دینا شروع کیا تو کورونا سے زیادہ لوگوں کے بھوک سے مرنے کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باقی ممالک تو شاید اپنی معیشت کو بچارہے ہوں ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچارہے ہیں اب لاک ڈاؤن کھولنا ہماری مجبوری ہے۔

عمران خان نےکہا کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے ان کے باعث اب تک حالات قابو میں ہیں، 24 اپریل کو جب میں نے خطاب کیا تھا اس وقت کورونا کے مثبت کیسز کا تخمینہ 52 ہزار 695 اور ایک ہزار 324 تھا لیکن کیسز اور اموات کی تعداد تخمینوں سے کافی کم ہے اور ہمارے ہسپتالوں میں اب تک وہ دباؤ نہیں پڑا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کیسز میں اضافے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے اور جون کے آخر تک ہمارے ہسپتالوں کی سہولیات موجود ہوں گی اور تخمینوں کے مطابق ہر 100 میں سے صرف 4 یا 5 کو ہسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے جس سے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) اور اس صلاحیت میں اضافے کے لیے تیاری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران کے دوران قوم پر اس کے پھیلاؤ کو تیزی سے روکنے میں ذمہ داری سے کردار ادا کریں۔

عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے باعث بیروزگار ہونے والے افراد کو کورونا ریلیف فنڈ سے نقد رقم پیر ( 18 مئی) سے دی جائے گی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت غریب عوام کی سہولت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے سے متعلق صوبوں کے ساتھ اتفاق رائے کی کوشش کررہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کورونا کے اس بحران میں میری ٹیم نے سوچ بچار کرکے جو اقدامات اٹھائے ہیں، امریکا اور ہورپی ممالک کے مقابلے میں پاکستان بہت منظم طریقے سے اس مشکل وقت سے نکلا ہے اور یہاں تک پہنچا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یہی بہت بڑا کمال ہے کہ اس مشکل وقت میں 80 لاکھ خاندانوں کو پیسہ پہنچایا اگر احساس پروگرام نہ ہوتا تو نجانے کیا ہوتا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں شروع سے اشیائے خورونوش کی فراہمی کی فکر تھی اور اب اس برے وقت میں رمضان کے مہینے میں بھی قیمتیں نہیں بڑھیں جب عموماً اچھے دنوں میں بھی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو فائدہ پہنچایا میرا ایمان ہے کہ جیسے ہم جارہے ہیں ایک مضبوط قوم بن کر نکلیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ہدایت کی کہ اب سے لے کر سال کے آخر تک یہ ذہن بنالیں کہ ہم نے کورونا کے ساتھ رہنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس بحران میں قوم کی کامیابی کا انحصار عوام ہے، عوام جتنی ذمہ دار ہوگی اتنی زیادہ کامیابی ہوگی، ہمیں معلوم ہے کہ جب تک ویکسین نہیں آتی اس وائرس نے یہیں رہنا لہذا جتنی احتیاط کریں گے معاشرے کے لیے اتنی آسانی پیدا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو ہم معاشرے میں غربت بڑھاتے ہیں لہذا ہم پر غریبوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ہے، نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بزرگوں اور بیمار افراد کی حفاظت کریں کیونکہ کورونا انہیں زیادہ متاثر کرتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم جس طرح عید مناتی ہے یہ عید اس سے مختلف ہے، اس عید پر قوم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے کہ احتیاط کرکے وہ ملک کی خدمت کریں گے۔

اسد عمر میڈیا کے کردار کے معترف
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس سے متعلق آگاہی پھیلانے پر میڈیا کے کردار کی تعریف کی۔

وزیراعظم اور دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا لوگوں کو آگاہ کرنے میں بہترین ذمہ داری ادا کررہا ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ میڈیا کے پیغامات کی وجہ سے لوگوں کے رہن سہن میں فرق آیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف ہم باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ چل رہے ہیں، ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں 27 گنا اضافہ ہوچکا ہے، وائرس کے ٹیسٹ کے لیے 2 لیبارٹریز تھیں اور آج 70 لیبارٹریز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سرجیکل ماسک کی سپلائی میں زبردست کام کیا اور اس کی قلت نہیں ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہمارے فیصلوں کی روشنی میں آئندہ 6 ماہ میں ہسپتالوں کا نظام 6 ماہ میں مفلوج ہوتا دکھائی نہیں دے رہا لیکن اس کی شرط ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قرنطینہ کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور ڈیٹا ٹیکنالوجی کے ذریعے 500 سے زائد مقامات پر گلیوں اور گھروں کو لاک ڈاؤن کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے ان کی مدد کرنے کے لیے ملک میں کمیونٹی موبلائزیشن کی سب سے بڑی تنظیموں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے جو ہزاروں یونین کونسلز تک یہ پیغام پہنچائیں گی۔

اسد عمر نے کہا کہ عوام کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ حکومت سچ بول رہی ہے اور کہیں ایسا ہوا کہ اندازے درست ثابت نہ ہوئے تو وہ بھی بتادیا جائے گا۔

عالمی وبا کی وجہ سے دیگر بیماریوں سے توجہ ہٹ رہی ہے، ڈاکٹر فیصل
وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے ملک میں تپ دق (ٹی بی) اور پولیو سمیت دیگر بیماریوں سے توجہ ہٹ رہی ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وبا کے دوران ہم نے ٹی بی کو نظر انداز کیا تو اس حوالے سے دنیا کی کارکردگی 5 سے 8 سال پیچھے جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اسٹاپ ٹی وی کی ماڈلنگ کے مطابق 3 ماہ کے لاک ڈاؤنز کے باعث اگلے 5 سال میں دنیا بھر میں اضافی 63 لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوں گے اور 14 لاکھ اضافی اموات ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام تعطل کا شکار ہوگئے اور انسداد پولیو کی 2 مہمات بھی نہیں ہوسکی اور ان کے کیا اثرات آسکتے ہیں؟

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت کسی محاذ پر ہارنا نہیں چاہتی۔

پاکستان کورونا کے علاج میں مؤثر دوا تیار کرے گا، ڈاکٹر ظفر مرزا
ان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران دیگر بیماریوں کے اعداد و شمار خوفناک ہیں، ہمارے یہاں بیماری اور غربت کا آپس میں بہت تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب لاک ڈاؤن اور اس کے اثرات کی بات کرتے ہیں تو ان بیماریوں کا بھی غریب پر زیادہ اثر پڑے گا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فرنٹ لائن ورکرز کی مدد ہماری ترجیحات میں اولین رہی ہیں اور اب ہم نے این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام مرتب کیا ہے کہ ذاتی تحفظ کے سامان (پی پی ایز) کو براہ راست 400 سے زیادہ ہسپتالوں میں پہنچایا جارہا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہسپتالوں میں ان پی پی ایز کا استعمال صحیح نہیں ہورہا اور ایسا دیکھا گیا کہ جنہیں استعمال کرنا چاہیے انہیں کئی مرتبہ یہ دستیاب نہیں ہوتے اور جنہیں اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے وہ ان پی پی ایز کو پہنے ہوتے ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے تمام صوبائی وزرائے صحت کے ساتھ، پاکستان میڈیکل بورڈ مل کر قومی سطح پر ایک پروگرام تشکیل دیا ہے، جس کا نام ‘وی کیئر’ یعنی ہمیں آپ کا خیال ہے رکھا گیا ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ہم نے ایک لاکھ فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت کا فیصلہ کیا ہے جو یہ بتائی گی کہ کس ورکرز کو کونسا سامان استعمال کرنا چاہیے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 5 صف اول کی طب کی جامعات کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے اور 4 ہفتوں میں اس تربیت کا پہلا مرحلہ پورا کریں گے۔

معاون خصوصی برائے صحت کا کہنا تھا کہ ہمارے نظام صحت پر 70 سال سے توجہ نہیں دی جاسکی اور اسی وجہ سے اس میں خامیاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی ہمارا تجزیہ بتاتا ہے کہ اتنے فیصد لوگوں کو انتہائی نگہداشت میں جانا پڑے گا تو پھر سوال یہ ہے کہ وہاں سامان کے حوالے سے کیا صورتحال ہے جبکہ عملے کی تربیت کیسی ہے، اس سلسلے میں بھی ایک پروگرام بنایا گیا ہے جہاں میڈیکل ٹیمز کے 5 ہزار اراکین کی تربیت کی جارہی ہے جبکہ 4 ہفتوں میں اس تربیت کو مکمل کرلیا جائے گا۔

کورونا وائرس کے علاج میں مؤثر نتائج دینے والی دوا سے متعلق معاون خصوصی نے بتایا کہ ابھی تک اس کی ویکسین یا مؤثر علاج نہیں تاہم ایک دوا ایسی ہے جس کے کلینکل ٹرائل کے مؤثر نتائج آئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس کمپنی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی اور ہمارے یہاں ایک کمپنی نے امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا میں صرف 6 کمپنیاں اس دوا کی تیاری کریں گی جس میں ایک پاکستانی کمپنی ہوگی۔

ظفر مرزا کے مطابق یہ کمپنیاں نہ صرف اس دوا کی پیدوار کریں گی اور ملک کی کورونا وائرس کی ضروریات کو پورا کریں گی بلکہ پاکستان سے یہ 127 ممالک میں برآمد بھی کی جائے گی جو بہت بڑی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان 3 ممالک میں سے ایک ہے جو اصل میں اس دوا کو تیار کریں گے۔

دوران گفتگو معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہم اب اس بات کی پابندی لگا رہے ہیں اور نوٹیفکیشن جاری کر رہے ہیں کہ ماسک پہننا ضروری ہے اور اب اس میں سختی لائی جارہی ہے۔

جامعات کی سطح پر آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری ہے، شفقت محمود
اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بات کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے مختلف شعبہ جات کی طرح تعلیم میں بھی بہت چیلنجز تھے اور اس سلسلے میں وزیراعظم نے ہمیں دو منصوبے دیے۔

انہوں نے کہا کہ تمام طلبہ کی صحت کا خیال ہمارا اولین فرض ہے جبکہ دوسرا یہ کہ ہمیں کوئی طریقہ اپنانا چاہیے کہ تعلیم کا عمل جاری رکھ سکیں، ساتھ ہی ان کے مطابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ کوشش کریں کہ پورے ملک میں تعلیم کے شعبے میں اقدامات یکسانیت کے ساتھ کریں۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہم نے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس اور ملاقاتوں کے لیے ایک ادارہ بنایا اور ہم نے تمام فیصلے تمام صوبے اور اکائیوں کے ساتھ مل کرکیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا یہ فیصلہ کیا کہ تعلیمی ادارے کب تک بند رہیں گے تو پہلے 31 مئی تک کا فیصلہ کیا جس کے بعد اس میں 6 ہفتے کی توسیع کرتے ہوئے 15 جولائی تک تعلیمی ادارے بند کردیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا فیصلہ جو بہت مشکل تھا وہ یہ تھا کہ امتحانات اگر ناممکن ہیں تو بچوں کو اگلی کلاس میں کس طرح بھیجا جائے، اس میں ہم نے پاکستان کے 29 بورڈ سے مشاورت کے بعد ایک فارمولا دیا اور نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے طلبہ کو مختلف طریقوں سے پروموٹ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ نویں اور گیارہویں کے طلبہ اگلے سال دسویں اور بارہویں کا امتحان دیں گے اور یہ گزشتہ سال پر بھی لاگو ہوگا جبکہ دسویں اور 12ویں کہ امتحانات ممکن نہیں تو ان کی پروموشین نویں اور گیارہویں کی بنیاد پر ہوں گے اور اس میں 3 فیصد اضافی نمبر دیں گے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہم سوچ رہے کہ ستمبر یا نومبر کے درمیان میں خصوصی امتحانات کا انعقاد کریں جس میں وہ لوگ امتحانات دے سکیں جو اس کیٹیگری میں نہیں آتے تاہم ہم نے تمام فیصلے مشاورت اور سارے بورڈ کے ساتھ کیے ہیں۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ملک میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے ہم نے ایک ٹیلی اسکول شروع کیا ہے جبکہ ابھی ہم ریڈیو کے ذریعے تعلیمی اسباق شروع کرنے جارہے ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جامعات کی سطح پر ہمیں ابتدائی طور پر کچھ مشکلات آئیں تاہم آن لائن تعلیم کا یہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے۔

احساس پروگرام کے تحت 85 لاکھ خاندانوں کی مدد کی گئی، ڈاکٹر ثانیہ
ڈاکٹر ظفر مرزا کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کو لانچ کیے 5 ہفتے ہوگئے ہیں اور اس عرصے میں 85 لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے امداد دی جاچکی ہے اور اس ضمن میں 104 ارب روپے تقسیم ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رقم یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد،گھریلو ملازمین، چھوٹے ریسٹورنٹس، باورچی، فوٹو اسٹیٹ مشین چلانے والے اور دیگر کئی لوگ ہیں جنہیں 6 ہفتوں سے تنخواہ نہیں ملی یا ملازمت سے نکالا جاچکا ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہماری حکومت کو اس مشکل گھڑی میں ایسے مجبور لوگوں کا سہارا بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام صرف ایک وزارت یا محکمے کا کام نہیں اس میں پوری کابینہ کی نیک نیتی اور جسے وزیراعظم کی خاص ہدایات کے مطابق شفافیت اور میرٹ کے تحت کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ احساس کیش پروگرام کے تحت 3 کیٹیگریز میں رقم دی گئی، پہلی کیٹیگری احساس کفالت پروگرام میں رجسٹرڈ خواتین کی ہے جن میں 44 لاکھ خاندانوں کو امداد دی جاچکی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ دوسری کیٹیگری ان لوگوں کی ہے جو 8171 کی ایس ایم ایس اسکیم کے ذریعے مدد مانگی تھی اور اس مد میں اب تک 30 لاکھ خاندانوں کی مالی معاونت کی جاچکی ہے اور تیسری کیٹیگری ضلع کے ذریعے آئی تھی اور اس میں 8171 کے لوگ بھی شامل تھے جس میں ابھی تک 10 لاکھ پہنچائی جاچکی ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ رقم کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے اور ہم نے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کے ہدف تک پہنچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیر (18 مئی) سے کورونا وائرس سے بیروزگار ہونے والے افراد کو وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ سے رقم کی ترسیل کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں 34 لاکھ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں جن کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ 8171 کے ذریعے مدد طلب کرنے والے افراد کا حتمی فیصلہ بھی 18 مئی کو کیا جائے گا، جن لوگوں کو بائیو میٹرک کے باوجود رقم وصول کرنے میں مشکلات ہورہی ہیں ان کے لیے پالیسی وضع کرلی گئی ہے جس حوالے سے پیر کو تفصیلات بیان کی جائیں گی۔

ایک ہفتے میں 11 سے 12 ہزار افراد کو واپس لایا جائے گا، معید یوسف
ان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک بیرون ملک پھنسے 23 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جاچکا ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ ہم نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے جس کے تحت فوری طور پر مسافروں کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور ٹیسٹ کے لیے 48 قرنطینہ کی شرط ختم کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اب ایک ہفتے میں کورونا وائرس کے باعث بیرون ملک پھنسے 11 ہزار سے 12 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسلام آباد میں بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پالیسی میں تبدیلی سے وطن پہنچنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ میں اضافہ ہوگا۔

معید یوسف نے کہا کہ 48 گھنٹے قرنطینہ کی شرط ختم کردی گئی ہے لیکن وطن واپس آنے والے افراد کو ایک یا 2 دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا کیونکہ ہم اب لیبارٹریز کی صلاحیت بڑھارہے ہیں تو مسافروں کو انتظار کرنا پڑے گا۔

صوبوں نے آٹومینوفیکچرنگ انڈسٹری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، حماد اظہر
ان کے بعد وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ جب کورونا کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو ہم نے روزمرہ کی اشیا اور ادویات کی دکانیں کھولی تھیں اس کے بعد اگلے مرحلے میں تعمیراتی صنعت کے فیز ون میں کچھ صنعتیں کھولیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ اس کے 3 ہفتے بعد ہم نے تعمیراتی صنعت کا دوسرا فیز کھولا گیا تھا۔

حماد اظہر نے کہا کہ آج (بروز جمعہ) صوبائی صنعتوں کے وزیر کے ساتھ مشاورت کے بعد متفقہ فیصلہ کیا ہے کارساز صنعت اور ان کے شورومز، موٹر سائیکل اور سائیکل بنانے والے کارخانے اور دکانوں کو 18 مئی (بروز مئی) سے کھولا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت گندم کی کٹائی چل رہی ہے یہ مذکورہ صنعت کی فروخت کے عروج کا وقت ہے، ہم نے اس حوالے سے بات چیت کی ہے اور سخت ایس او پیز کے ساتھ تمام صوبوں اور اکائیوں نے آٹو مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر صوبوں کا خیال ہے کہ شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دینی چاہیے کیونکہ ان کے داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں اور زیادہ بہتر ماحول ہوتا ہے جہاں سخت ایس او پیز پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بڑے شاپنگ مالز کھولنے کا فیصلہ صوبوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنے مالز کی نوعیت دیکھ کر خود فیصلہ کریں۔