- الإعلانات -

اپنے خلاف لگنے والے ہر الزام کاجواب دوں گا اور اسے غلط ثابت کروں گا، جہانگیر ترین

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کا کہنا ہے کہ جھوٹے الزامات سے جھٹکا لگا ہے، اپنے خلاف لگنے والے ہر الزام کاجواب دوں گا اور اسے غلط ثابت کروں گا۔

شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ہمیشہ صاف ستھرا کاروبار کیا ہے اور پورا پاکستان جانتا ہے کہ گنے کے کاشت کاروں کوہمیشہ مکمل ادائیگی کی ہے’۔
رپورٹ میں اصل چینی چور وزیراعظم اور عثمان بزدار کا ذکر تک نہیں، شاہد خاقان
چینی بحران:جہانگیر ترین، شہباز شریف، مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمر شہریار نے پیسے بنائے
جہانگیر ترین چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے برطرف
چینی اور آٹا بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے جہانگیر ترین نے اٹھایا
جہانگیر ترین نے حکومت کو بغیر ٹینڈر چینی دینے کی پیشکش واپس لے لی
جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی دہرے کھاتے نہیں بنائے، ہمیشہ ذمہ داری سے ٹیکس اداکیے، اپنے خلاف لگنے والے ہر الزام کاجواب دوں گا اور اسے غلط ثابت کروں گا۔

خیال رہے کہ حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی ہے جس کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور خسرو بختیار کے بھائی عمرشہریار کی چینی ملز نے پیسے بنائے۔

فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکےمتاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کاروبار کرنے والا سیاست میں بھی کاروبار کرے گا، وزیراعظم کی یہ بات سچ ثابت ہوگئی ہے۔

انہوں نے دیگر تفصیلات کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ جہانگیر ترین گروپ کی شوگر ملز ڈبل بلنگ، اوور انوائسنگ اور کارپوریٹ فراڈ میں ملوث ہیں۔

یال رہے کہ ملک میں گذشہ عرصے کے دوران چینی بحران کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر کی گئی تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے انکشاف کیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے جہانگیر ترین کو چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔