- الإعلانات -

قصور میں ٹرین کی کار کو ٹکر، 2 نوبیاہتا جوڑے ہلاک

قصور: 2 نئے شادی شدہ بھائی اور ان کی بیویاں پتوکی میں ایک ریلوے کراسنگ پر ٹرین سے کار کی ٹکر میں ہلاک ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق ریلوے حکام نے 2 ریلوے کراسنگ میں سے صرف ایک پھاٹک کھول رکھا تھا جہاں کراچی جانے والی خیبر میل نے کار کو کچل دیا اور رکنے سے قبل ایک کلومیٹر تک گھسیٹا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پتوکی صدر پولیس نے بتایا کہ ثمرین ان کے 30 سالہ شوہر حماد علی اور 26 سالہ سرفراز علی موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ سرفراز کی بیوی کرن پتوکیل تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پہنچ کر زندگی کی بازی ہار گئیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ دونوں جوڑے گاہلن گاؤں چک 9 کے رہائشی سے تھے جن کی 2 ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔

پتوکی اسٹیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ چوکیدار کے پاس ٹرین کو دیکھنے کا کوئی آلہ نہیں اور جب اس نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ ٹرین آرہی ہے تو پھاٹک بند کردیے۔

مذکورہ عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ڈیڑھ سو سالوں سے یہی ہورہا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ وقوعہ کے وقت کس کی ڈیوٹی تھی کیوں کہ ڈیوٹی روسٹر اوکاڑہ میں ریلوے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں موجود ہے۔

واقعے کے بعد ٹرین 2 گھنٹے تک رکی رہی جبکہ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں نے پتوکی ہائی پاس کے نزدیک ملتان روڈ ٹریفک کے لیے بلاک کردی اور انسانی جانوں کے ضیاع کے لیے ریلوے حکام کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

مزید پڑھیں: ٹرین کی کار کو ٹکر،ماں بچوں سمیت 6 افراد ہلاک

بعدازاں پولیس نے ریلوے کے 3 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے ایک اہلکار محمود علی کو گرفتار کرلیا۔

مقامی انتظامیہ نے واقعے کی فوٹیج بھی نکلوائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور وہاں سے کچھ ٹی وی چینلز نے بھی نشر کی۔

فوٹیج میں دیکھا گیا کہ لنڈا پھاٹک کراسنگ کا گیٹ نمبر 152 کھلا ہوا تھا اور حادثے سے قبل ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں نے پھاٹک عبور بھی کیا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ایک پھاٹک ٹریفک کے لیےکھلا ہوا تھا اور ٹریک کے قریب ریلوے کے ایک درجن ملازمین مرمتی کام کررہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ٹرین ڈرائیور نے دیکھا کہ پھاٹک کھلا ہوا ہے تو اس نے بریک لگانے کی کوشش کی۔

دوسری جانب متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ اور مقامی افراد نے نیشنل ہائی وے پر مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ’غفلت برتنے والے حکام‘ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بعدازاں پتوکی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کی جانب سے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

احتجاج کرنے والے ایک شخص سلیم کا کہنا ھا کہ لنڈا پھاٹک کو ’خونی پھاٹک‘ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ ماضی میں یہاں ایک درجن سے زائد ٹرین حادثات ہوچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی افراد کے احتجاج کے باوجود وزارت ریلوے معصوم جانوں کا ضیاع روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ہے۔