- الإعلانات -

ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 74 ہزار 326 ہوگئی، 1574 جاں بحق

اسلام آباد: پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 74 ہزار 326 تک جا پہنچی جن میں سے 1574 افراد جاں بحق اور 26 ہزار 83 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 14 ہزار 398 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 5 لاکھ 61 ہزار 136 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ جس کے بعد پاکستان بھر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 74 ہزار 326 تک جا پہنچی ہے جن میں سے 26 ہزار 83 افراد نے کورونا وائرس کو شکست دے دی۔
کورونا وائرس کے پنجاب میں 26 ہزار 240 ، سندھ میں 29 ہزار 647، خیبرپختون خوا میں 10 ہزار485، بلوچستان میں 4 ہزار 393 ، اسلام آباد میں 2 ہزار 589، گلگت بلتستان 711 اور آزاد کشمیر میں کورونا کیسز کی تعداد 261 ہوگئی۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں ایک روز میں کورونا سے مزید 60 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے، جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد ایک ہزار 574 ہوگئی۔

کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئیں جہاں 497 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 481، خیبر پختونخوا میں 473، اسلام آباد میں 28، گلگت بلتستان میں 11، بلوچستان میں 47 اور آزاد کشمیر میں 6 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔