- الإعلانات -

بھارت کو پتہ ہے پاکستان کیساتھ چھیڑ خانی کی توبھرپورجواب ملے گا،مسلح افواج بھرپورجواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں،ڈاکٹر قدیر

لوگوں کو پتہ ہے ہم نے انہیں محفوظ بنایا،ہمار ے پاس ایک بہترین ٹیم تھی جس کاایٹمی دھماکوں میں حصہ ہے،ہماری ٹیم کی دن رات کی محنت کے بعدپاکستان ایٹمی طاقت بنا

عوام کو علم ہے ایٹم بم کس نے بنایا،کس نے دھماکہ کیا،ڈاکٹر قدیر( ایٹم بم بنائے ہوئے 22سال گزر چکے ، اب اس بحث میں کیوں پڑے ہیں، ایٹم بم ہم نے بنا کر اپنا فرض ادا کر دیا ،وزیراعظم کی مرضی کے بغیر دھماکہ نہیں کر سکتے تھے)

بھارت کو پتہ ہے پاکستان کیساتھ چھیڑ خانی کی توبھرپورجواب ملے گا،مسلح افواج بھرپورجواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں،حکمران ایک دوسرے کو کرپٹ کہنے کی بجائے عوام کی خدمت کریں،

ہوٹلوں اوردوکانوں کوبندنہیں کرنا چاہیے،حکومت کو لاک ڈاون نہیں لگاناچاہیے،ملک میں بیروزگاری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے،لاک ڈاون کیوجہ سے لوگ پریشانی کاشکارہوتے ہیں،

18ویں ترمیم کے بعدہرصوبہ اپنی من مانی کررہاہے،جنرل ایوب خان کے دورمیں ہم آسانی سے کشمیرحاصل کرسکتے تھے،روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد(عزیر احمد خان )پاکستانی قوم محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔اور آپ کو دل سے دعائیں دیتی ہے ۔میں نے وزیراعظم پاکستان ،آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے آپ کے حوالے سے اپیل کی اور اسے پھر اپنے اکائونٹ پر ٹویٹ کیا اور یہ ٹویٹ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ۔آپ یقین کریں کہ پاکستان کی قوم آپ سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔اور آپ کو دل سے دعائیں دیتی ہے ۔یہ بات پاکستان گروپ آف نیوز پیپر کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام سچی بات میں کہی اس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ قوم کو معلوم ہے میں نے انہیں سکیورٹی اور حفاظت مہیا کی ہے ۔اس بات کو کوئی بھی نہیں چھپا سکتا ، انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس شخص نے ان کو ہندئوں سے بچا لیا ہے ۔اسی وجہ سے عوام مجھے دعائوں میں یاد رکھتے ہیں ایس کے نیازی نے پروگرام سچی بات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں عرض کروں آپ کی شفقت آ پ کی مہر بانی اور آپ کی دعائوں اور آپ کی دوائوں سے یہ ملک قائم و دائم ہے۔میں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں میں ایک عرض کرتا ہوں کہ یوم تکبیر کے بعد ایک بحث چل پڑی ہے کہ یوم تکبیر پر ایٹمی دھماکہکس نے کیا ہے۔وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایٹمی دھماکہ میں نے ،راجہ ظفر الحق اور گوہر ایوب نے کیا ۔ لوگ اس موقع پر محسن پاکستان کی بات سننا چاہتے ہیں کہ جس نے ایٹم بم بنایا ہے اس کی بات سنیںڈاکٹر قدیر نے کہا کہ نیازی صاحب بات یہ ہے کہ اگر کسی کو شوق ہے کہ ایٹم بم اس نے بنایا تو وہ اس کا کریڈیٹ لے لے ۔لیکن آپ عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ، عوام کو سب معلوم ہے کہ میرے آنے سے پہلے یہاں کیا حالت تھی اور میرے آنے کے بعد ملک کی کیا حالت ہوئی ، کس طرح ملک کا دفاع مضبوط کیا ، اب بات یہ ہے کہ لوگ ادھر ادھر جاکر پیسے دے کر بھی اخبار میں مضمون لگوا لیتے ہیں ۔اگر آپ دیکھیں کہ زاہد ملک کو غلام اسحاق خان نے جو خط لکھا تھا ، وہ آپ کی نظر سے گزرا ہو گا۔ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ میں اس وقت آپ کے ساتھ ہی تھا ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ زاہد ملک سے زیادہ بہتر راز بتانے والا تو کوئی نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہ کلئیر کٹ کہا کہ اگرپاکستان نیوکلیئر پاور ہے تووہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وجہ سے ہے ۔اور تمام کریڈیٹ ان کو ہی جاتا ہے دوسرے لوگوں نے بھی اس کی تا ئید کی جب دھماکے ہوئے تو تمام شخصیات جن میں صدر ، وزیراعظم اور وزرا سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں ۔انہوں نے مبارکباد کے پیغامات مجھے ہی بھیجے ۔سعودی عرب کے دفاعی وزیر پرنس سلطان جب آئے تو ان کو تینوں سروسز چیف کے ساتھ کہوٹہ لے کر آئے تو سارا کچھ دکھایا تو سب کو معلوم ہے کہ ایٹم بم بنائے ہوئے 22سال گزر چکے ہیں ۔ اس بات کے پیچھے کیوں پڑے ہیں ۔ہم تو اپنے سر پر تختی لگائے نہیں پھررہے کہ ایٹم بم ہم نے بنایا جو بنایا تھا سو وہ بنا دیا ، ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ میں نے ہمیشہ یہ کہا میں نے اور میرے رفقا کار نے ایٹم بم بنایا ۔نیازی صاحب میں لوگوں کو بتا دوں کہ میرے آنے سے پہلے بھی ایسی کو ئی آرگنائزیشن نہیں تھی کہ جو اس قابل ہو اور نہ ہی قیامت تک اس ملک میںکوئی ایسی ٹیم بنے گی کہ وہ ایسے کام کر سکیں ۔یہ لیڈر کی محبت اور اس کی صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے ، دوسرا اس کی خوش قسمتی بھی ہوتی ہے کہ اس کو اچھے لوگ مل جائیں ۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت دی تھی کہ مجھے بہت اچھے لوگ ملے وہ بہت ہی قابل تھے میں نے ایک ایک کا نام لکھ کر اپنے قالم میں خراج تحسین پیش کیا ۔ میں نے بکری کی طرح رٹ نہیں لگائی ۔ ایک چپڑاسی تک کا نام لے کر اس کو خراج تحسین پیش کیا ۔کہ یہ میرے ساتھی اور رفقا کار کتنے اچھے اور کتنے سیریس اور کتنا دل لگا کر کام کرتے تھے۔ہم نے بیس 20بائیس 22گھنٹے کام کیا ہے آپ کو تو پتہ ہے ۔لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارے یہاں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنا دیتے ہیں ۔میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے ان کی بغیر اجازت کے یہ کام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔یہ کسی کونہیں بھولنا چاہیے کہ جب انہوںنے اجازت دی تب ہی یہ کام ہوا۔بہت سے لوگ سمجھ رہے تھے کہ ہمیں کافی امداد ملے گی یا امداد بند ہو جائے گی۔لیڈر سب کی باتیں سنتا ہے ۔پھر وہ یہ بھی دیکھتا ہے اس کام کے نتائج کیا نکلیں گے وہ بھی سب لوگوں سے بات کررہے تھے پوچھ رہے تھے ۔آخری فیصلہ انہوں نے ہی کیا ۔وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں یہ کریڈیٹ جاتا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا اور دھماکہ کرنے کی اجازت دی ۔ وہ چاہتے اور اگر کہتے کہ دھماکہ نہ کرو تو کوئی دھماکہ نہ کرتا ۔یہ تھوڑا وقت جو مشکل تھا وہ 80کے شروع میں تھا ۔ ہماری جانوں کو جوخطرہ تھا جب ہم ایٹم بم بنانے والے تھے مغربی ممالک کو پتہ تھا کہ اس پراجیکٹ میں کون کو ن شامل ہے ۔ہم سب جان کی پرواہ کیے بغیر باہر جاتے تھے لوگوں سے ملتے تھے سامان لاتے تھے وہ وقت خطرے کا تھا لیکن اس میں یہ بات بہت اچھی کہ آغاز شاہی صاحب نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے ڈپلو میٹک پاسپورٹ دے دیا تھا اور وہ ہر دوسرے سال نام کے ادوار سے بدل جاتا تھا کہ میں جا رہا ہوں دوسروں کو دیکھتے ہی نہیں تھے کہ کو جا رہاہے خطرے کی بات اسی وقت تھی جب ہم نے ایٹم بم نہیں بنایا تھا ہم نے 83اور 84کے شروع میں ایٹم بم بنا لیا تھا اور جنرل ضیا ء کو لکھ دیا تھا کہ ایک ہفتے کے نوٹس پر ہم دھماکہ کر سکتے ہیں ۔یہ بات ریکارڈ پر ہے جو ریسپشن کتاب لکھی تھی۔ اس میں لکھا ہے کہ جنرل عارف نے بتایا کہ جنرل ضیاء کے ٹیبل پر ڈاکٹر صاحب کا خط رکھا تھا ۔جس میں لکھا تھا کہ ہم ایک ہفتے کے نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کرسکتے ہیں یہ بات مصدقہ ہے کہ ایٹم بم ہم نے ہی بنایا تھا میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیت دے دی ہے ہمیں ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہیے چیز بن گئی تھی ہمیں 100فیصد یقین تھا کہ یہ کام کر ے گا ہم نے کولڈ ٹیسٹ کیے ہوئے تھے ۔ ہمیں پتا تھا پورے سسٹم کو ہم نے دیکھا ہوا تھا۔اور وہاں جو ٹنل تھی وہ اٹامک انرجی کمیشن کے لوگوں نے اور آرمی نے بنوائی تھی اور پھر اس میں ریکارڈ کرنے کے لیے آلے لگا ئے گئے تھے ۔اس لیے ان کا ہونا وہاں ضروری تھا۔ہماری ٹیم وہی تھی جس کو انہوں نے جوڑا اور دھماکے لیے وہاں رکھا بات یہ ہے کہ یہ جو ٹیکنالوجی تھی اس کا پوری دنیا میں کسی کو نہیں پتا تھا صرف اس کے لیے دو طریقے تھے جو امریکہ نے 45میں کئے تھے اور اس کے بعد سے یہ ٹیکنالوجی بین ہو گئی صرف ہندوستان نے دھوکہ دے کر امریکہ اورکینیڈا کو وہ پلانٹ بنا کر دھماکہ کر دیا ۔یہ تومیری اور پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ میں ایسی جگہ کام کر رہا تھا کہ یورونیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت آ گئی تھی اور میں نے سیکھ لی تھی ورنہ اگر یہ صلاحیت نہ ہوتی تو قیامت تک بھی ایٹمی پاور نہیں بن سکتے تھے ۔ اور کوئی طریقہ کار نہیںتھا ، اس کے لیے ٹیکنالوجی تھی جو میں لے کر آ گیا اور میں نے سیکھ لیا مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ مجھے یاد رہا کیونکہ میں تو چھٹی پر آیا تھا ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے روک لیا میرے کاغذات سب وہیں تھے ۔ ہم تو ایک سلپ بھی ساتھ نہیں لائے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ اب آپ واپس نہ جائیں میں نے کہا کہ میں کاغذ وغیرہ لے آئو تو انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کام کیا ہے آپ کو یاد ہو گا انہوں نے بہت بڑی ذمہ داری میرے اوپر ڈال دی تھی لیکن اللہ کا کرم ہوا کہ سب کی محنت سے ہو گیا میرے رفقہ کار محنتی نفیس اور ذہین تھے ہم نے ٹیم ورک کیا کوئی سینئر جونیئر نہیں تھا اس لیے میں نے کہا کہ اب قیامت تک بھی کوئی ایسی ٹیم نہیں بن سکتی ۔ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے کہا کہ بھارت کچھ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ اگر اس نے گڑ بڑ کی تو اس کو اتنا سخت جواب ملے گا ۔ افواج پاکستان ان کا موتر نکال دیں گے ۔ مسلح افواج ہر طرح کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں میں پاکستان سے یہ کہوں گا کہ اپنا کردار ٹھیک کریں یہ جھوٹ بولنا ، ملاوٹ کرنا حکمران جو ہیں ان کو چاہیے وہ عوام کا خیال رکھیں ملک بہت اچھا ہے اس میں لا تعداد مواقع ہیں ذرائع ہیں جو بھی حکومت آتی ہے وہ انہی چکروں میں پڑ جاتی ہے کہ اس کو برا کہنا اس کو برا کہنا یہ حکومت آئی تھی ہم نے سوچا تھا یہ کام میں لگ جائے گی۔ صبح سے شام تک ان کے لیڈر یہ کہتے رہتے ہیں کہ نواز شریف نے یہ کہا کہ یہ چور ہیں وہ چور ہیں ، اچھے ہیں وہ خراب ہیں وہ چور تھا یا خراب تھا لوگوں نے اسے گھر بھیج دیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ امریکہ نے انگلینڈ میں فرانس میں کوئی لیڈر سابقہ لیڈروں پر الزام لگا تا ہے جب وہ جیت گیا تو وہ سمجھ گیا کہ سابقہ لیڈر کو عوام نے مسترد کر دیا ہمیں موقع دیا کہ ہم کام کریں تو آپ کام کریں بجائے اس کے صبح سے شام تک الزام تراشیوں میں لگے رہیں ۔ ٹی وی پر آ کر بیٹھ جائیں اور جوآئے وہ کہیں اس سے بچنا چاہیے کا م میں لگنے اور ملکی ترقی کے لیے کا م کریں ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے تحاشہ ذرائع دیے ہیں صرف پانی دیکھیں جو بوتل 30روپے کی آتی ہے ہم اس سے زیادہ پانی ہم سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں اسی طرح غلا ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے گندم چاول غرض کی ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہے۔لیکن بد انتظامی ہے ٹماٹر ہمیں باہر سے خریدنے پڑتے ہیں ، پیاز امپورٹ کرنا پڑتی ہے ، ادرک امپورٹ کرنا پڑتی ہے یہ وہ چیزیں ہیں جنیں دیکھ کر ہمیں دکھ ہو تا ہے اس میں بڑی نا اہلی بجائے اس کے کہ ملک کو ترقی دیں ۔اس موقع پر ایس کے نیاز ی نے سوا ل کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے ملک کے اندر رفائے عامہ کے کاموں کا جال بچھایا ہوا ہے اور سارے لوگ جانتے ہیں کہ آپ رفائے عامہ کے کاموں میں کیا کررہے ہیں آپ کیا فرماتے ہیں کہ کورونا وائرس کی اتنی بری وبا ہے اس سے جان نہیں چھوٹ رہی سندھ حکومت کودیکھیں وہ پی ٹی آئی حکومت کے پیچھے پڑی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کو دیکھو تو سندھ اور دیگر صوبوں کے پیچھے پڑی ہے آپ نے بجا فرمایا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے جو کام ہمیں کر کے دیا اس کو ہم اس طرح آگے لے کر نہیں چل رہے یوم تکبیر پر دیکھیںایٹمی دھماکوں کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی گئی جس پر محسن پاکستان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب آپ کو تو پتا ہے کہ ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی انکو تو پتا ہی نہیںتھا یہ لوگ تھے ہی نہیں کسی کو اس میں آنے کی اجازت ہی نہیں تھی ، میں تھا ، گوہر ایوب صاحب تھے ، اے ڈبلیو قاضی تھے۔ پرنسپل سیکرٹری تھے، چوہدری شجاعت تھے ، آرمی کے چیفس تھے ۔یہ لوگ تووہاں تھے ہی نہیں ان لوگوں کو وہاں قدم رکھنے کی اجازت ہی نہیں تھی ، یہ کہاں سے بم پھوڑنے لگے انکو تو پتا ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے کس قسم کے انتظامات ہو رہے ہیں جیسا میں نے عرض کیا کہ وزیراعظم نواز شریف کی اجازت لازمی تھی انہوں نے اجازت دی تب ہی یہ دھماکے ہوئے ۔ایس کے نیاز ی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ قوم کو کیا پیغام دیں گے ۔نیز جب بھی ہم نے صوبوں کو اختیارات دیئے 18ویں ترامیم دی اس وقت میں سپریم کورٹ میں 17ججز کے سامنے پیش ہوا 18ویں ترامیم دی اور کہا کہ وفاق کا قائم رہنا بہت ضروری ہے اور میری کسی نے نہیں سنی آپ قوم کو کیا کہیں گے کہ قوم ایک ہو کر رہے وفاق کو حیثیت دے ۔اس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ سب بٹ گئے ہر ایک اپنی من مانی کرتا ہے تعلیم کا نظام بہت خراب ہو گیا اور اسی طرح صنعتیں بھی تباہ ہیں کچھ چیزیںوفاق کے انڈر ہو نی چاہیں اور وہیں سے سنٹر لائز ہوں تاکہ پورے ملک کا نظام چلے ۔لیکن ہمارے یہاں یہ ہے کہ جس کی مرضی میں جو آئے وہ کرے۔ایس کے نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے تعلیم کے حوالے سے ایک ڈرافٹ تیار کیا تھا جو احسن اقبال کو بھی بھیجا تھا لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی ، اس میں جو بھی خدو خال تھے وہ فیڈرل پر ہی آ کر ختم ہو تے تھے۔لیکن وہ چیزیں نہیں ہوئیں یہ بھی بد قسمتی ہے ہمارے ملک کی محسن پاکستان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سو یونیورسٹیز میں ہماری کوئی رینکنگ نہیں ہے ہم پسماندہ ہیں ہم ہانگ کانگ اورسنگا پور سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں میں نے یونیورسٹی کا پرپوزل بڑی محنت سے بنایا تھا وہ میںنے پہلے کاپی احسن اقبال کو بھیجی وہ کہنے لگے کہ ملی نہیں میں پھر دوبارہ بھیجی کہنے لگے ایچ ای سی کو فاروڈ کر دی میں نے کہا کہ میں ایچ ای سی کو نہیں بھیج سکتا تھا یہ فیصلہ پلاننگ ڈویژن کوکرنا چاہیے تھا آپ کو کرنا چاہیے تھا یہ فیصلہ ،نیازی صاحب اللہ تعالیٰ بھٹو کو جنت نصیب کرے ۔ اگر انہیں میں نے خط لکھا تھا کہ اس طرح ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں وہ کسی بھی ماہر کو دیتے تو وہ کہتا کہ یہ لڑکا بے وقوف بنا رہا ہے ۔لیکن بھٹو صاحب نے کسی سے ڈسکس نہیں کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے آکر ملو جب میں ملا تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص سچ بول رہاہے اور یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ رہاہے تو یقیناً سچ کہہ رہا ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کام کر وانا تھا اگر بھٹو صاحب یہ پرپوزل کسی کو دے دیتے تو سب مذاق اڑاتے ۔عثمانی صاحب چیئرمین ایٹمی کمیشن ریاض خان کو ملے تو مذاق اڑا رہے تھے کہ کوئی چھوکرا آیا ہے وہ مدہانی سے ایٹم بم بنائے گا۔یہ مدہانی مکھن بنانے والی ہے ، سینٹری فیوجز کو وہ مدہانی کہہ رہے تھے جب کام ہو گیا تو بڑے حیران ہوئے کہنے لگے یار اس لڑکے نے تو کام کر دکھایا ۔اب جتنے بھی تیس مار خان بنتے ہیں وہ کہتے ہیںکہ میں نے کیا میں نے کیا نیازی صاحب ان سے پوچھیں کہ یورینیم ان ریچ کس نے کیا یہ لوگ زیرو ہیں بات یہ ہے کہ ہم نے پچانوے فیصد ان ریچ کیا ، بلکہ ہم نے ویپن کا ڈیزائن بھی پرفیکٹ کیا ، اور ہم نے پورے ویپن وغیرہ خود بنا کر دیئے تھے ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب حمت نہیں ہارنی اور پاکستان کے لیے سوچتے رہنا ہے اور ہمارا سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ اورچیف جسٹس جسٹس گلزار احمد ان چیزوں کو سمجھنے والے ہیں آ پ ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کے لیے میں نرم گوشہ رکھتا ہوں میری کتاب حلقہ احباب میں یہ بات آپ نے لکھی ہے ، وزیراعظم محب وطن اور دیانتدار ہیں لیکن ان سے معاملات اس طرح نہیں چل رہے جس طرح چلنے چاہیں ۔ وزیراعظم ہماری اپیل پر بھی غور کریں گے ۔ آپ کی خدمات کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ایس کے نیاز ی نے مزید کہا کہ میں تو رفاعی کاموں میں آ پ کے ساتھ ہوں آ پ نے اس حوالے سے میری رپورٹنگ پر مجھے گولڈ میڈل سے بھی نوازا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ہم فلاحی کام تو کر رہے ہیں جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ لاہور میں 500بیڈ کا کتنا بڑا ہسپتال بنا یاہے اور ہم نے چار سال میں پانچ لاکھ لوگوں کا مفت علاج کیا ہے دوائیں بھی ہم مفت دیتے ہیں ڈائیلاسیز ہم کرتے ہیں اور وہ بھی فری ہیں ۔کراچی میں مینٹل ہسپتال بنایا ہوا ہے وہاں ہزاروں لوگوں کا علاج کرتے ہیں جو ہمارے ہاتھ میں ہے وہ ہم کر رہے ہیں اس موقع پر ایس کے نیاز ی نے کہا کہ میں تو آپ کے ساتھ بورڈ کا ممبر ہوں ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ دیکھیں کتنا بڑا انسٹیٹیوٹ بنایا ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ میں عمران خان کو بتایا کہ آپ جا کر دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کتنا بڑا ادارہ بنایا ہے ۔میانوالی میں بننے والی یونیورسٹی میں لندن سے مشینیں منگوا کر لگوائیں تھیں، دس ہزار پائونڈ میں یہ مشینیں خریدیں تھیں جو ایک دوست نے بھجوائیں تھی ، میں کسٹم والوں سے ملا کہ یہ مشینیں سکول کیلئے ہیں تو انہوں نے ڈیوٹی معاف کر دی تھی ۔اس وقت یہ انسٹیٹیوٹ پاکستان کا سب سے بہتر انسٹیٹیوٹ ہے ۔یہاں سے نکلنے والا طالبعلم کبھی بے روزگار نہیں رہتا ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ بنی گالہ میں اتنی جگہ دی جس پر ہم نے بنا دیا ، ثواب آپ کو بھی مل رہا ہے،ایس کے نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب جو آپ رفاعی کام کرتے ہیں لوگوں کوامید ہوتی ہے کہ وہ سو فیصد درست ہو گا، عوام آپ پر اعتماد کرتی ہے ، عمران خان بھی اچھے کام کر رہاہے ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ عمران خان کی تھوڑی سے پرابلم ہے ممکن ہے کہ میں غلط ہوں کہ ان میں مرد شناسی کی کمزوری ہے ایس کے نیازی نے کہا کہ ان میں کمزوری نہیں بلکہ مردم شناسی ہے ہی نہیں ،اب آپ سے عمران خان سے مشورے لیتے تو انہیں اچھے لوگ مل جاتے ایس کے نیازی نے کہا کہ ان کی ٹیم میں پرابلم ہے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ لیڈ اور ٹیم پر منحصر ہو تا ہے کہ اگر ٹیم اچھی نہیں تو لیڈر اچھا ہو ، لیڈر اچھا نہ ہو تو ٹیم اچھی ہو ، گزارا چل جاتا ہے یہاں تو ہر شخص معاون خصوصی بنا بیٹھا ہے۔ایس کے نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے میرے پروگرام میں بات کی تھی کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار بھارت میں یہاں یہاں تک مار کریں گے تو بھارتی صحافی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے ڈرانے کے لیے یہ باتیں کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ پورا بھارت ہی ہماری لپیٹ میں ہے میں نے کہا کہ یہ ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت ہے ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ترقی کریں جرمنی اور فرانس کتنے بڑے دشمن تھے پھر کتنے اچھے دوست ہو گئے، سب مل کر کام کر رہے ہیں ہمیں بھی مل کر کام کرنا چاہیے۔ہم بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔مسلح افواج کو حکم ملے تو بھارت کا کوئی بڑا شہر نظر ہی نہیں آئے گا ۔میں نے کہا کہ مل جل کر رہیں لڑائی جھگڑے افہام و تفہیم سے حل کر لیں ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ 62میں کتنا اچھا موقع تھا ہمارے یہاں کوئی اچھی لیڈرشپ ہو تی تو مقبوضہ کشمیر میں جا کر قبضہ کر لیتے لیکن یہاں سے تو کہا گیا کہ آ پ اپنی فوجیںہٹا لیں ہم کچھ نہیں کریں گے۔ اس قسم کی باتیںکی گئیں۔ ہم اس وقت ایک ہفتے میں قبضہ کرلیتے ۔ یہ ایوب خان کا دور تھا ۔اندرا گاندھی نے یہ کہا تھا کہ آپ کو ایک موقع ملا تھا وہ آپ نے کھو دیا ۔ہمیں موقع ملا ہم نے استعمال کر لیا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے مشورہ دیا تھا کہ الیکشن لڑو جب تک آپ پارلیمنٹ میں نہیں آئو گے ، اس وقت تک آپ کی کوئی نہیں سنے گا ۔ان کو چاہیے کہ الیکشن میں حصہ لیں مین لائن میں آئیں اور بین الاقوامی سطح پر کوشش کریں کہ انہیں آزادی مل جائے ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ بھارت کی پالیسی دیکھیں کہ اس نے تمام عرب ممالک میں مندر بنا دیئے ۔ مڈل ایسٹ کے لوگ ذرا سا دبائو ڈالیں تو وہ بھارت کے لاکھوں لوگوں کو نکال دیں گے اور بھارت مقبوضہ کشمیر کو آزاد کر دیگا۔ لیکن وہ ہمارا ساتھ نہیں دیتے ۔ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ہندوبہت خراب ہیں ان سے بڑا ظالم کوئی نہیں مودی بہت سخت ہے یہ گجرات کے لوگ ہیں وہاں شیوا جی بھی تھا ، جسے پہاڑی چوہا کہتے ہیں اس نے مغلوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی انہوں نے کہا کہ چین زیادہ برداشت نہیں کرتا ، کورونا کے معاملات میں قابو پا لیا لیکن امریکہ میں ایک لاکھ لوگ مر گئے ، انہوں نے کہا کہ عوام کورونا کے حوالے سے سادے ماسک لگائے تو یہ کنٹرول ہو سکتا ہے عید شاپنگ میں لوگوں نے احتیاط نہیں کی تو اس مرض نے تو پھیلنا ہی تھا۔انہوں نے کہا کہ سختی کریں لیکن کاروبار بند نہ کریں اس سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے حکومت ایس او پیز پر عمل درآمد کرائے۔تمام ہوٹل بند ہیں کوئی باہر سے آنے والا کہیں ٹھہر نہیں سکتا۔ہوٹلز کھولنے چاہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگرمحبت سے کہیں تو عوام عمل کرے گی، اب آپ کیبنٹ اجلاس دیکھ لیں وہاں پر لوگ کرسیوں سے کرسیاں جھوڑے بیٹھے ہوتے ہیں ، عوام دیکھتی ہے کہ خود تو ایسا کررہے ہیں ہم کیوں نہ کریں ۔ہم دعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے ۔
ڈاکٹر عبد القدیر