- الإعلانات -

پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں سے رعایت نہ برتی جائے، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت جاری کی ہے کہ پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔

ملک میں پیٹرول کی قلت پر وزیراعظم کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وزیرتوانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی ندیم بابر نے وزیرِاعظم کو آئل کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائی اور ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات سے متعلق آگاہ کیا۔

اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کے خلاف کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ملک میں جاری پٹرول کے بحران پر وزیراعظم کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس میں وفاقی وزراء ، وزارت پیٹرولیم اور اوگرا حکام شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر سے پٹرولیم بحران پر قابو پانے کے لیے کیے ہنگامی اقدامات کی تفصیلات طلب کیں۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ پٹرول ذخیرہ کرنے والی آئل کمپنیوں کے خلاف اوگرا نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ حکومت نے ایف آئی اے کے ذریعے بھی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔ ایف آئی اے آئل کمپنیوں کے مالکان کو طلب کرے گی ۔

منگل کے روز وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ اجلاس میں پیٹرول کی قلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمے داران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت جاری کی تھی۔ پیٹرول بحران کی تحقیقات کے لیے وفاقی وزارت توانائی پیٹرولیم ڈویژن نے ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع الرحمن آفریدی کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی میں قائم کی ہے۔ کمیٹی میں اوگرا، ایف آئی اے، پی ایس او، ضلعی انتظامیہ، ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے نمایندے شامل ہیں۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کےترقیاتی بجٹ اورنیشنل ڈویلپمنٹ آوٹ لےکی منظوری دےدی گئی۔

قومی رابطہ کمیٹی نےڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو دو ارب اورسنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کودس ارب روپے تک کےمنصوبےمنظورکرنےکی اجازت بھی دے دی۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح زراعت،صحت و تعلیم کےشعبوں میں بہتری لاناہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینےکےلیےٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے۔

قومی اقتصادی کونسل اجلاس کے اعلامیےمیں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں ترقی پذیر علاقوں کےلیے زیادہ ترقیاتی بجٹ رکھاجائے گا۔اجلاس میں مالی سال 21-2020 کیلئے زراعت،صنعت اورخدمات کی شرح نموکی منظوری بھی دی گئی۔