- الإعلانات -

بجٹ سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رْک جائیں گی، شہبازشریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے بجٹ سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رْک جائیں گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ اور اس کے اہداف غیرحقیقی ہیں، غریب کش بجٹ کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، یہ بجٹ صرف پی ٹی آئی کے فنانسرز اور مفاد پرستوں کو نوازنے کے لئے بنایا گیا ہے، جس سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رْک جائیں گی، یہ بجٹ نہیں تباہی کا نسخہ ہے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنا ظلم ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میرے خدشات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئے، بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں، حکومتی نااہلی کی سزا قوم اور ملک کو مل رہی ہے، حکومت اپنی نالائقی پہلے مسلم لیگ (ن) اور اب کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کررہی ہے، لیکن ایسے کام نہیں چلے گا، وبا سے پہلے معاشی بربادی حکومتی ناکامیوں اور بے سمت پالیسیوں کا کافی ثبوت ہے، فروری سے پہلے ان کی معاشی کارکردگی اپنے اہداف سے 25 فیصد سے زائد کم تھی، گزشتہ سال کے معاشی جھوٹ اور غلط اندازوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ اعداد و شمار اور اہداف پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: 72 کھرب 94 ارب کا وفاقی بجٹ پیش

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری، کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کردئیے ہیں، 68 سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی منفی میں ہوچکی ہے، تاریخ میں یہ فسکل خسارہ کبھی دوہندسوں میں نہیں رہا، پہلی بار موجودہ حکومت نے یہ کام کردکھایا، دو سال میں موجودہ حکومت نے قومی قرض میں 30 فیصد اضافہ کردیا، رواں سال 2200 ارب روپے کا غیر ملکی کرنسی میں غیرملکی ذرائع سے قرض لیا جاچکا ہے جب کہ اتنا ہی مزید قرض لینے کا منصوبہ ہے جس سے پاکستان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر ملکی بینکوں میں گروی رکھا جا رہا ہے۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو ٹیکس ریونیو، حکومتی اخراجات، مالیاتی خسارہ اور جی ڈی پی کے اپنے مقرر کردہ اہداف بھی حاصل نہیں کرپائی، رواں سال 10 فیصد مالی خسارہ ملکی معیشت اور بجٹ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دے گا، اگر یہ بجٹ ہے تو قوم منی بجٹس کے لئے تیار رہے، معیشت چل نہیں رہی پھر حکومت4963 ارب ریونیو کا ہدف کیسے پورا کرے گی، مطلب صاف ہے کہ آئندہ آئی ایم ایف اجلاس سے قبل حکومت منی بجٹ پیش کرے گی۔