- الإعلانات -

بھارت کے سلامتی کونسل میں انتخاب نے سوالات کو جنم دیا ہے، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بھارت کے انتخاب نے سوالات کو جنم دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آئرلینڈ، ناروے اور میکسیکو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقوام متحدہ کے منشور اور اصولوں کے منافی اقدامات کے باعث سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بھارت کے انتخاب نے سوالات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، جموں و کشمیر تنازع سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت جیسے ملک کو اعزاز دینے کی بجائے اس کا احتساب ہونا ضروری ہے، بھارت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کا پابند بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن و سلامتی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 9 لاکھ قابض فوجیوں کے ذریعے اعلیٰ کشمیری قیادت سمیت 8 لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام 5 اگست 2019 کو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے بعد مسلسل 10 ماہ سے زائد عرصے سے غیر انسانی لاک ڈاؤن اور فوجی محاصرے میں ہیں۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارت نے غیر معمولی پابندیوں کے ساتھ مقبوضہ وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، جبکہ وہ بین الاقوامی مانیٹرنگ ٹیم کو مقبوضہ کشمیر کا دودہ کرنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی غیر قانونی تبدیلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں اور بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جبکہ دنیا کورونا وائرس کی وبائی صورتحال سے دوچار ہے، بھارت آر ایس ایس ۔ بی جے پی کے انتہا پسندانہ ‘ہندوتوا’ نظریہ کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ موجودہ بھارتی قیادت نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

بھارت اور چین کے درمیان حالیہ سرحدی تنازع کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کی پڑسی ممالک کے ساتھ سرحدوں کو تبدیل کرنے کی متشدد پالیسیوں اور یکطرفہ اقدامات سے علاقائی امن و استحکام کو مستقل خطرہ ہے اور اس سے خطے میں استحکام اور ترقی کے فروغ کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 2021 اور 2022 کے لیے 4 نئے اراکین منتخب ہوگئے تھے جبکہ کینیڈا کو ایک مرتبہ پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ افریقہ کی نشست کا فیصلہ دوسرے مرحلے میں ہوگا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق بھارت، میکسیکو، ناروے اور آئرلینڈ، سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب ہوئے ہیں جبکہ جمہوریہ جبوتی اور کینیا دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔

جبوتی اور کینیا آج (جمعرات) سلامتی کونسل کی رکنیت کے دوسرے مرحلے میں حصہ لیں گے۔

الیکشن میں ایشیا پیسیفک سے بھارت نے حصہ لیا تھا جسے 192 ممالک میں سے 184 نے ووٹ دیے۔

خیال رہے کہ بھارت سلامتی کونسل میں مستقل نشست جیتنے کی ناکام کوشش کررہا ہے اور یہ غیر مستقل رکن کی حیثیت سے اس کا آٹھواں دور ہوگا۔

مذکورہ نتائج کا مطلب ہے کہ بھارت اب چین کے ساتھ براجمان ہوگا وہ بھی ہمالیائی سرحد پر دونوں ممالک کے تنازع کے بعد جس کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔