- الإعلانات -

‘وزیرستان ہو یا ایل او سی پر فائرنگ، بھارت کو پاکستان کا امن ایک آنکھ نہیں بھاتا’

اسلام آباد: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرستان ہو یا ایل او سی پر فائرنگ، بھارت کو پاکستان کا امن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت افغانستان میں بھی امن نہیں چاہتا۔ بی جے پی کی سرکار بے پناہ دباؤ میں ہے۔ لداخ میں رسوائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کراچی میں بھی کچھ واقعات رونما ہوئے ہیںجبکہ بھارت لائن آف کنٹرول میں بھی سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں ایسے واقعات کا غور سے جائزہ لینا ہوگا۔ نئی صورتحال پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کروں گا۔ بھارت کی حرکتیں نامناسب ہیں۔ وہ افغانستان میں تخریب کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ادھر سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ نے خطے میں امن واستحکام کیلئے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کیلئے پاکستان کی خواہش کا بھی اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے سارک کے رکن ممالک اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ صحت کے شعبے خصوصاً کورونا وائرس کے تناظر میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار سارک کے ایوان صنعت وتجارت کا صدر بننے پر افتخار علی ملک کے نام ایک تہنیتی خط میں کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں اس وقت پاکستان کے پاس کورونا کے سب سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی استعداد کار موجود ہے جو یومیہ 20 ہزار ہے۔

وزیر خارجہ نے خطے میں امن واستحکام کیلئے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کیلئے پاکستان کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے نئے تجارتی مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

افتخار علی ملک نے نیک خواہشات کا اظہار کرنے پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل اور مجبوریوں کے باوجود معیشت سارک ممالک کے لئے اہم ترین ایجنڈا ہونا چاہیے۔