- الإعلانات -

اقرار الحسن کو گرفتار کرنے کے بعد کیا کیا گیا جانیئے اس خبر میں

اقرار الحسن کو گزشتہ روز کراچی سندھ اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران اقرار الحسن ساتھی سمیت پسٹل اسمبلی ہال میں پہنچ گئے تھے ، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا تھا ،نجی ٹی وی کے مطابق انہیں رات کو منشیات کے عادی افراد کے ساتھ رکھا گیا اور ان کے بیرک میں پنکھے کی سہولت بھی موجود نہیں تھی جس کے بعد اقرارالحسن کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ نجی ٹی کے مطابق اقرار الحسن کو آج صبح تھانے تفتیشی دفتر منتقل کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر کے سامنے بیانات قلمبند کئے جائیں گے۔ بعد ازاں کچھ دیر بعد انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل اقر ارالحسن کی گرفتاری کا وفاقی وزیرداخلہ چوہدر ی نثار نے نوٹس لے لیا تھا اور تشویش کا اظہاربھی کیا تھا ۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحافی اسٹنگ آپریشن کرتے ہیں کہیں بھی ایسا سلوک نہیں ہوتا۔ اقرار الحسن متحرک اور بلاصلاحیت صحافی ہیں۔ اقرار کے کام کو سراہنے کی بجائے سندھ حکومت کا سلوک غیر مناسب ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایسے اسٹنگ آپریشن پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ اینکر پر سن کو گر فتار کر نے کے بعد ان کو آرام با غ تھا نے میں منتقل کیا گیا تھا لیکن تھانہ نے با ہر اقرار الحسن کے چا ہنے والو ں نے احتجا ج کر نا شروع کر دیا ہے ایس ایچ او کے حکم پر تھانہ آرام با غ کے مر کزی دروازے پر تالہ لگا دیا گیا۔لو گ اقرار الحسن کے حق میں نعرہ بازی کر رہے ہیں کہ ان کو رہا کیا جا ئے۔ انہیں بیسمنٹ کے راستے سے ایک گاڑی کے ذریعے آرام باغ تھانے منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف سندھ اسمبلی کی انتظامیہ مقدمہ درج کرائے گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل ریلوے کے خلاف اسی قسم کا اسٹنگ آپریشن کرنے پر لاہورہائی کورٹ نے اپنے تاریخ ساز ریمارکس میں کہا تھا کہ ’اقرار الحسن قوم کے محسن ہیں‘ اور یہ ریمارکس دے کر اقرار اوران کے ٹیم ممبران کو باعزت بری کیا تھا۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پرڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سندھ اسمبلی میں پستول آسکتی ہے تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما سلمان مجاہد بلوچ خواجہ اظہار نے اقرارالحسن کی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سندھ حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے اوراب خود حکومت بھی محفوظ نہیں ہے۔وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ سندھ اسمبلی کی سیکیورٹی کے انچارج اسپیکراسمبلی آغا سراج درانی ہیں اورانہی کے فیصلے پر حکومت عمل درآمد کرے گی۔