- الإعلانات -

عزیر بلوچ کی حقیقی جے آئی ٹی سامنے آنے کے بعد علی زیدی معافی مانگیں، قادر پٹیل

کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں جھوٹی اور من گھڑت جے آئی ٹی رپورٹ لہرا کر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر الزام لگانے والے وفاقی وزیر علی زیدی کو حقیقی جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد معافی مانگنی چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے ہفتے کو کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے وزراء کے مطالبے پر عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی کو ظاہر کردیا ہے اور پیر کے روز یہ محکمہ داخلہ کی آفیشل ویب سائیڈ پر موجود ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل پی ٹی آئی کے ایک وزیر جن کا کام صرف جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگانا ہے نے اسمبلی میں ایک جھوٹی جے آئی ٹی رپورٹ ایوان میں لہرا لہرا کر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور ہمارے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی پر الزامات عائد کئے۔ مذکورہ جے آئی ٹی میں ہمارے کسی رکن کا نام نہیں اور بے بنیاد الزامات لگائی گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس وزیر نے سندھ حکومت پر صنعتین کھولنے پر پیسے لینے کا الزام لگایا۔ہم نے الزام لگانے پر ثابت کرنے اور چیئرمین کے پی ٹی کو بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ چیئرمین کے پی ٹی کا نام سنتے ہی ان کو نجانے کیوں آگ لگتی ہے۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بداخلاقی کا طوفان شروع کیا گیا ہے۔ ہمای قیادت پر الزام لگائے جاتے رہے۔ ہم ڈیڑھ سال تک خاموش رہے کہ ایوان کا ماحول خراب نہ ہو لیکن ان کی جانب سے مسلسل ہماری قیادت پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا اور جب ہم اب ان کو ان کی زبان اور انداز میں جواب دینا شروع کیا ہے تو ہمیں قومی اسمبلی میں بات کرنے پر مائیک بند کردیئے جاتے ہیں۔

قادر پٹیل نے کہا کہ جب میں لندن میں تھا تو عزیر بلوچ کیس میں سوالات کے لیے رینجرز کا خط موصول ہوا۔ رینجرز کو آکر تمام سوالوں کے جوابات دیے اور رینجرز نے کلیئر کردیا۔ ڈاکٹر عاصم کیس میں جیل گیا تھا اور ابھی کیس زیر سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جلد ہی محکمہ پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت پر وائٹ پیپر شایع کریں گے اور ان کی کھربوں روپے کی کرپشن بے نقاب کیا جائے گا۔ 24لاکھ روپے سے علی زیدی نے اپنا آفس بنایا ہوا ہے۔ 20 لاکھ روپے اس گھر پر خرچ کئے گئے ہیں جسے اس نے کرایہ کا ظاہر کیا ہوا ہے ۔ چئیرمین کے پی ٹی اوروزیر کے مابین7 کروڑ کا ایک ایم او یو مخالفت کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ یہ ایک کمپنی سے ایک کروڑ 20 لاکھ کی بجائے 7 کروڑ کا معاہدہ کرنے پر بضد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علی زیدی بتائیں کہ دو سال سے ویسٹ وہارف میں لیز پر پابندی ہے تو پلاٹ نمبر 16 کی کس طرح لیز کی گئی۔کے پی ٹی کے بورڈ ممبر کون ہیں معیار کیا ہیں مقرر کیوں کیئے گئے اس پر بھی تحقیقات کیوں نہیں کی جاتی۔ برتھ نمبر 14 سے 17 سے کون سی کمپنی مستفید ہورہی ہے، کس کا بھائی اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ کلین کراچی کے کروڑوں روپے لیئے گئے نہ آڈٹ ہے نہ رولز فالوو ہوئے۔ایک این جی او سے کام کروایا گیا اس میں کون سی خاتون تھیں ان کو کیا فائدہ دیا گیا۔

قادر پٹیل نے مزید کہا کہ نیب نے جب اربوں کی کرپشن کا نوٹس دیا تو علی زیدی چیئرمین نیب سے ملاقات کرنے چلے گئے،کیا چیئرمین نیب اپوزیشن سے ملیں گے۔ یہ الزامات میں نہیں لگارہا بلکہ یہ الزام کے پی ٹی کی یونین نے لگائے ہیں اور اس تمام کے شواہد بھی انہوں نے نیب کو فراہم کئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کا رویہ جارحانہ اور جانب دارانہ ہوتا جارہا ہے۔ اس لئے ہم اور اور ن لیگاسپیکر کے خلاف تھریک عدم اعتماد لانے پر غور کررہے ہیں۔

ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں شدید گرمی ہے اور کے الیکٹرک اس وقت میں زیادتی کررہی ہے۔ بجلی ضرورت ہے آسائش نہیں ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لے اور عوام کو مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔