- الإعلانات -

طلبہ کا او، اے لیولز کے نتائج میں کمی، ’امتیازی سلوک’ پر احتجاج

اسلام آباد: سیکڑوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (سی اے آئی ای) کے امتحانات کے جمعرات کو اعلان کیے گئے نتائج کے خلاف نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعدازاں ڈی چوک کی طرف مارچ کیا۔

طلبہ نے سی اے آئی ای کی مارکنگ پر تنقید کی اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور پاکستانی حکومت سے برطانوی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے سی اے آئی ای کے او اور اے لیولز کے امتحانات نہیں ہوئے تھے جس کی وجہ سے طلبہ کو متوقع گریڈز کی بنیاد پر ان کے نتائج دیئے گئے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ سی اے آئی ای کے سامنے اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے غیر منصفانہ گریڈنگ کے بارے میں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں اور میں نے کیمبرج کو طلبہ کی تشویش کا اظہار کیا ہے، مجھے امید ہے کہ سی اے آئی ای اس پر غور کرے گا اور حل کے لیے اقدامات کرے گا’۔

احتجاج کرنے والے طلبہ نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے طلبہ کے مقابلہ میں امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ نے نتائج میں کمی کے بارے میں عوامی غم و غصے کے اظہار کے بعد نتائج کا جائزہ لیا ہے جبکہ انگلینڈ جبکہ انگلینڈ میں حکومت نے بیان دیا جاری کیا ہے جس میں طلبہ کو دیے گئے نتائج، موک نتائج یا مفت دوبارہ امتحان میں سے انتخاب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صورتحال مثالی نہیں ہے لیکن امتحانات بورڈ اور برطانیہ کی حکومت نے طلبہ کو رعایت دی ہے کہ وہ کوشش کریں اور بہترین حل تلاش کریں۔

تاہم ، تقریبا 160 ممالک کے بین الاقوامی طلبہ، جن میں زیادہ تر افریقا اور جنوبی ایشیا سے ہیں، کے ساتھ مختلف رویہ برتا گیا ہے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اسکولوں نے متوقع گریڈ جمع کروائے ہیں لیکن چند کیسز میں اے پلس کے متوقع گریڈ والے طلبہ نے سی اے آئی ای سے ایف گریڈ حاصل کیے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طلبہ پر سی اے آئی ای نے اتنی توجہ نہیں دی اور ان طلبہ کو انفرادی اپیل کا حق نہیں ہے۔

ایک احتجاج کرنے والے طالب علم کے والد حامد خان کے مطابق سی اے آئی ای نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم فیس بک پر ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کا مارکنگ سسٹم کس طرح کام کرتا ہے اور اب تک طلبہ کے اعتراضات کو نظرانداز کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ان طلبہ کی کوئی آواز نہیں ہے جس کی وجہ سے سی اے آئی ای کے لیے غیر معمولی اور متعصبانہ سلوک کو تسلیم کیے بغیر ‘معمول کے مطابق’ کاروبار کرنا آسان ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بچے اپنی ساری زندگی اس کا خمیازہ بھگت سکتے ہیں۔