- الإعلانات -

محرم میں 37 علما اور مذہبی رہنماؤں کے راولپنڈی میں داخلے پر پابندی عائد

راولپنڈی: ضلعی انتظامیہ نے ضلع میں 37 مذہبی رہنماؤں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے اور محرم کے دوران 13 علما کے بیانات دینے پر پابندی بھی عائد کردی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ریٹائرڈ کیپٹن انوارالحق نے ضلع میں 37 علما کے داخلے پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کرنے کی ہدایت جاری کردی، یہ حکم اسپیشل برانچ اور مقامی پولیس کی طرف سے موصولہ اطلاع کے بعد جاری کیا گیا تھا کہ یہ علما محرم میں امن و امان اور ہم آہنگی کو خراب کر سکتے ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ دینی علما اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے عادی ہیں اور اس کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کا امکان ہے، ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر ان علما کو داخلے کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ ضلع میں امن وامان کی صورتحال خراب کرسکتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے 13 علما کے بیانات پر بھی پابندی عائد کردی ہے، انہوں نے بتایا کہ میں تیہ سٹی پولیس آفیسر کی بنیاد پر بنائی گئی رپورٹ سے مطمئن ہوں کہ وہ فوری طور پر ان افراد کو ضلع راولپنڈی کی محصولاتی حدود میں 60 دن تک عوامی مقامات اور مذہبی اجتماعات پر تقریریں/خطبات دینے سے روکے۔

ڈپٹی کمشنر نے ڈان کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا تھا کہ وہ جلوسوں اور مجلسوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضلع میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے امن کمیٹیوں کو فعال کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ محرم کے دوران تمام فرقوں کے مذہبی اسکالروں سے بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے اور کووڈ 19 کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

قبل ازیں ڈپٹی کمشنر نے ماتمی جلوسوں کی مجالس اور لائسنس ہولڈروں کے منتظمین کا اجلاس بلایا، انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ حکومت انہیں ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے گی لیکن وہ انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

ڈپٹی کمشنر نے منتظمین سے درخواست کی کہ وہ ان زاکروں اور خطیبوں کو مجلسوں میں نہ بلائیں جن پر پابندی عائد ہوچکی تھی اور جنہیں تقریر کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فہرست جاری کی گئی ہے اور منتظمین کو فراہم کی گئی ہے۔

عاشورہ کے ماتمی جلوسوں کے مذہبی اسکالرز، منتظمین اور لائسنس ہولڈرز نے انتظامیہ کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کچھ امور کی نشاندہی کی جن کی اصلاح کی جانی چاہیے۔