- الإعلانات -

گلگت بلتستان میں سیاحوں کا رش، 5فیصد سے بھی کم کے پاس کورونا کی رپورٹ ہونے کا انکشاف

گلگت: ملک بھر میں کورونا کے کیسز تیزی سے کم ہو رہے ہیں لیکن سیاحتی مقامات کھلنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے گلگت بلتستان کا رخ کیا ہے اور ان افراد میں سے 5فیصد سے بھی کم کے پاس کورونا وائرس کی رپورٹ ہیں۔

محکمہ صحت گلگت بلتستان کے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان نے انکشاف کیا ہے کہ گلگت بلتستان آنے والے ڈھائی لاکھ کے قریب سیاحوں میں سے 5فیصد سے بھی کم کے پاس لیبارٹری رپورٹس تھیں جو انتہائی تشویش ناک اور ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں 20 سیاحوں میں کورونا وائرس کی علامات پر انہیں قرنطینہ کر دیا گیا ہے جبکہ بعض کی طرف سے غلط معلومات پر ان سے رابط نہیں ہو رہا۔

ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق صوبوں اور وفاق نے تعاون نہ کیا تو سردیوں میں گلگت بلتستان میں کورونا کی صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں پیر کو ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی ہے جس میں موثر حکمت عملی بنائی جائے گی۔

شاہ زمان کے مطابق گلگت بلتستان میں روزانہ 150 کے قریب سیاحوں کی گاڑیاں ہو رہی ہیں جن میں 95 فیصد کے پاس کورونا ٹیسٹنگ رپورٹس نہیں ہوتی ہیں اس لیے داخلہ مقامات پر سیاحوں کی رینڈم ٹیسٹنگ شروع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیسٹنگ اور اسکریننگ پر ہوٹل مالکان کی تنظیمیں مداخلت اور اعترضات کرتی ہیں جس سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان میں کورونا سے نمٹنے کے لیے محکمہ صحت کے پاس انتہائی محدود وسائل ہیں اور ایسے میں عدم تعاون کا یہ غیر ذمہ دارانہ طرز عمل جاری رہا تو علاقے میں کورونا کے خطرات بڑے المیے کو جنم دے سکتے ہیں۔

شاہ زمان نے کہا کہ حالات کے پیش نظر تمام ہوٹلوں کو پابند کیا گیا ہے کہ 20 فیصد کمروں کو کرونا سے متاثرہ سیاحوں کے لیے ریزرو کر دیا جائے تاکہ انہیں فوری قرنطینہ کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ملک بھر میں کوروا کے کیسز میں کمی اور تسلی بخش صورتحال کے پیش نظر 10 اگست سے سیاحتی مقامات پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کورونا وائرس کے پیش نظر سیاحتی مقامات مارچ سے مکلم بند تھے جس کی وجہ سے محض سیاحت پر انحصار کرنے والے مقامی افراد کا روزگار بری طرح متاثر ہوا تھا۔