- الإعلانات -

4 ہزار سرکاری پلاٹوں کی الاٹمنٹ غیر قانونی طریقے سے منسوخ

لاہور: محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے سابق ڈائریکٹر جنرل نے وزیراعلی اور صوبائی وزیر ہاؤسنگ کی منظور کردہ پالیسی کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی طریقہ کار اپناتے ہوئے 4 ہزار سے زائد سرکاری پلاٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کردی ، زیادہ تر پلاٹس جنوبی پنجاب میں واقع ہیں ، ڈی جی نے محکمہ ہاؤسنگ کے ڈائریکٹرز کو تحریری کی بجائے زبانی ہدایات کے ذریعے الاٹمنٹس منسوخ کروائیں جبکہ مالکان کو منسوخی سے قبل کسی قسم کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ، منسوخ کی جانیوالی تمام الاٹمنٹس 30 سے 40 سال قبل کی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب بالخصوص جنوبی پنجاب کے اضلاع میں واقع مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے حوالے سے حکومت نے ایک سروے کروایا تھا جس کا مقصد یہ نشاندہی کرنا تھا کہ کس سرکاری سکیم میں کس نان کمرشل روڈ پر کتنی نان کمرشل عمارتوں میں کمرشل سرگرمیاں ہو رہی ہیں ، سروے مکمل ہونے کے بعد وزیراعلی کی بنائی کمیٹی اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی بورڈ نے تفصیلی غور و خوص کے بعد یہ فیصلہ کیا کمرشل سرگرمیوں والی نان کمرشل عمارتوں کے مالکان کیلئے ایک سکیم متعارف کروائی جائے جس کے تحت وہ ایک مخصوص مدت کے دوران حکومت کی جانب سے مقررہ مناسب کمرشلائزیشن فیس کی ادائیگی کے بعد اپنی عمارتوں کو کمرشل کروا سکتے ہیں ۔ حکومتی تخمینہ کے مطابق اس سکیم سے بھاری ریونیو جمع ہونا تھا جسے مختلف عوامی منصوبوں پر خرچ کیا جانا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت کے ڈی جی ہاؤسنگ پنجاب منصور سرور نے حکومتی پالیسی کے بر خلاف اور وزیر اور سیکرٹری ہاؤسنگ کو بتائے بغیر محکمہ ہاؤسنگ کے ڈائریکٹرز کو زبانی ہدایات جاری کیں کہ 4 ہزار سے زائد ایسی نان کمرشل عمارتوں کی الاٹمنٹ منسوخ کردی جائے جہاں کمرشل سرگرمی ہو رہی ہے اور ان کے مالکان کو کہا جائے کہ وہ الاٹمنٹ کی بحالی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس سے رجوع کریں ۔
وزیر ہاؤسنگ محمود الرشید نے ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کوئی پالیسی بنائی نہ ہی ایسا کوئی حکم دیا تھا لیکن سابق ڈی جی ہاؤسنگ نے از خود غیر قانونی فیصلہ کیا جس بارے حکومت کو بھی آگاہ نہیں کیاوزیراعلی سے مشاورت کے بعد میں نے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے اسپیشل سیکرٹری ہاؤسنگ محمد شفیق کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی جس میں ایک سینئر ڈائریکٹر اور بورڈ کے ایک رکن ایاز سرفراز ملک شامل ہیں ، تین ہفتوں میں انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار قرار دیے جانے والے افسروں کیخلاف ایکشن ہوگا ۔