- الإعلانات -

توشہ خانہ ریفرنس: آصف زرداری احتساب عدالت پیش، 9 ستمبر کو فرد جرم عائد ہوگی

اسلام آباد: احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو فرد جرم کے لیے 9 ستمبر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے کہا آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی پر 9 ستمبر کو فرد جرم عائد ہوگی۔

احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی۔ آصف علی زرداری ہاتھ میں چھڑی لے کر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق صدر نے کورونا وائرس سے بچنے کیلئے فیس شیلڈ، ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے۔

سابق صدر کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ احتساب عدالت کے اردگرد کے 500 میٹر کے علاقے کو سیل کیا گیا، اسلام آباد پولیس کے ایک ہزار اہلکار سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور کئے گئے۔

عدالت جانے والے راستے کو رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگا کر سیل کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان کو سری نگر ہائی وے پر روکا گیا، جہاں پر پیپلز پارٹی کارکنان اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

بعدازں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جعلی اور کٹھ پتلی حکومت نہیں چل سکتی، آپ کے دباؤ کی وجہ سے ہم اپنا مؤقف نہیں بدلیں گے، پورا خاندان بھی گرفتار کرلیں، 18 ویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا آج پھر سے اسلام آباد کو یرغمال بنایا گیا، وکلا کو بھی عدالت آنے میں مشکلات پیش آئیں، فاروق نائیک کو بھی عدالت جانے نہیں دیا گیا، آج کارکنوں اور رہنماؤں کو عدالت جانے سے روکا گیا، کیا آزاد ریاست میں ایسے ہوتا ہے ؟ عوام اور وکلا سے کیا چھپانے کی کوشش کی گئی ؟ کیا آپ آصف زرداری سے اتنا ڈرتے ہیں؟۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا میرے خاندان کے ساتھ نفسیاتی کھیل کھیلا جا رہا ہے، جمہوری، انسانی حقوق پر ہم اپنا بیانیہ نہیں بدلیں گے، آج سپریم کورٹ کے وکلا سے بدتمیزی کی گئی، آج ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے کل کسی اور کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، نیب دباؤ ڈال کر اپنی مرضی سے کیس چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔