- الإعلانات -

موجودہ حالات میں 15 ستمبر سے اسکولز کھلنے کی امید ہے، وفاقی وزیر تعلیم

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ جس طرح کے حالات ہیں اس میں امید ہے کہ ہم 15 ستمبر سے اسکولز کھول دیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے 40 لاکھ بچوں کو پروموٹ کیا اور پورے ملک میں اس کو تسلیم کیا گیا جبکہ اگر اس کا مقابلہ غیرملکی بورڈ سے کریں تو اس میں آپ دیکھیں گے کہ کیمریج کے امتحان میں لوگ کتنے دلبرداشتہ تھے اور انہیں کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

شفقت محمود کے مطابق ہم نے جو فارمولا بنایا اس کے تحت پروموٹ کیا گیا اور اس فارمولے کو ملک کے 29 بورڈ نے تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ تاہم کیمریج کے نتائج آنے پر ہمیں چیلنج درپیش ہوا کیونکہ انہوں نے ایسا سسٹم اپنایا تھا جس میں 2، 2 گریڈ کم کردیے گئے تھے، تاہم میں نے کیمریج سے بچوں اور والدین کے جذبات پہنچائے اور ان پر زود دیا کہ یہ یہ نتائج ہمیں تسلیم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے برطانوی حکومت سے بذریعہ سفارتخانے رابطہ کیا اور بتایا کہ یہ نتائج ہمیں تسلیم نہیں ہے، جس کے بعد ہماری محنت رنگ لائی اور کیمریج نے اپنے پورے نتائج پر نظرثانی کی اور کہا کہ ہم اسکولز کے نتائج کو ہی تقسیم کریں گے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہم مل کر ایک بہت بڑا فیصلہ کرنے جارہے ہیں جو 15 ستمبر سے اسکول کو کھولنے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 7 ستمبر کو بین الصوبائی وزرا تعلیم کا ایک اجلاس منعقد کریں گے اور اس اجلاس کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے کہ اسکول کھل رہے ہیں یا نہیں کھل رہے، تاہم امید ہے کہ جس طرح حالات چل رہے ہیں ہم اسکول کھول دیں گے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ وزارت صحت اس سلسلے میں ایک بڑا تفصیلی ایس او پی یعنی اسکولز کھلنے کا طریقہ کار کا اعلان کرے گی۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کورونا وائرس کی بیماری آئی تو ہمیں ایک مسئلہ آیا کہ اسکولز بند ہیں تو ہم بچوں تک کیسے پہنچیں تاہم ہم نے جو ردعمل دیا اس کو دنیا نے دیکھا اور اس پر تبصرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 7 اپریل کو ٹیلی اسکول کا اجرا کیا اور اس کی یومیہ کلاسز ہورہی ہیں اور گیلپ سروے کے مطابق 70 سے 80 لاکھ بچہ روز اس کے ذریعے تعلیم حاصل کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے ہائر ایجوکیشن کے لیے آن لائن ایجوکیشن کا آغاز کیا تاہم اس میں بہت مسائل آئے کیونکہ بہت سے بچوں کے پاس دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں تھی، تاہم اب ہم اس طرف جارہے ہیں جہاں پورے ملک میں انٹرنیٹ سروس میسر ہو۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے کیس 26 فروری کو سامنے آنے کے بعد سے سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی کچھ روز کی بندش کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد اس میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔

یہی نہیں بلکہ ملک میں کورونا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بچوں کے تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے نہ صرف ٹیلی اسکول بلکہ جامعات میں آن لائن سسٹم بھی متعارف کروایا گیا تھا جبکہ نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کو بغیر امتحان کے پروموٹ کیا گیا تھا۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں جہاں مختلف شعبوں سے پابندیاں ہٹائی گئی تھی وہیں تعلیمی اداروں کی بندش برقرار تھی جس پر نجی اسکولز ایوسی ایشنز نے حکومتی فیصلے کے خلاف جانے کا اعلان کیا تھا۔

نجی اسکولز ایسوسی ایشنز نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ ملک کے بیشتر نجی تعلیمی اداروں کی عمارتیں کرائے پر ہیں اور اسکولوں کی بندش کی وجہ سے فیسز کی وصولوی میں بھی کافی حد تک کمی ہوئی ہے جس کے باعث ادارے کرایہ اور دیگر اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں۔

تاہم وفاقی حکومت نے تمام صوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس کے بعد 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا کہا ہوا ہے اور اس سلسلے میں 7 ستمبر کو ایک حتمی اجلاس بھی ہوگا۔

علاوہ ازیں بعض علاقوں میں 15 اگست سے نجی اسکولز کھولنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھی جس پر حکام نے کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔