- الإعلانات -

آمدن سے زائد اثاثہ جات: شہباز شریف، اہلِخانہ آئندہ سماعت پر طلب

لاہور کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور اہلِ خانہ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے انتظامی جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ اور اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔

سماعت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر عاصم ممتاز نے دلائل دیے۔

پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو نیب نے طلبی کے نوٹس جاری کیے لیکن وہ پیش نہیں ہوئیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ پر نیب الزامات سے متعلق تفتیشی عدالت کی معاونت کریں۔

ساتھ ہی عدالت نے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو بھی آئندہ سماعت پر احتساب عدالت طلب کرلیا۔

علاوہ ازیں عدالت نے ملزمان نثار احمد، قاسم قیوم، راشد کرامت سمیت دیگر تمام ملزمان کو بھی احتساب عدالت طلب کر لیا۔

احتساب عدالت نے طلب کیے گئے ملزمان کو 27 اگست کو عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

واضح رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کنبے کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ کے تحت منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔

اس معاملے میں شہباز شریف لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے منظور کردہ ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں، ان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت پیر کو ہونا تھی تاہم متعلقہ بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کی سماعت نہ ہو سکی۔