- الإعلانات -

سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات اچھے ہیں اور اچھے رہیں گے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں اور انشاءاللہ اچھے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودیہ عرب نے اسرائیل کے معاملے پر دوٹوک اور تاریخی مؤقف اپنایا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل سعودی عرب نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جبکہ اس سے چند روز قبل ہی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ نے اپنے دورہ چین کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پاک چین اسٹریٹیجک مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کروں گا اور اس دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات بھی ہوگی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پرتبادلہ خیال کے خواہشمند ہیں اور ملاقات میں اقتصادی راہداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پربات ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال دونوں ممالک کے لیے اہمیت کی حامل ہے، گزشتہ ایک سال میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ سب کے علم میں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کے ہم شکرگزار ہیں کہ ان کے تعاون سے ہم 55 سال کے بعد تین دفعہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں زیر بحث لانے میں کامیاب رہے۔

افغانستان اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تبدیلی آرہی ہے، چین اور پاکستان جانتے ہیں کہ خطے میں اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

‘فلسطین پر سعودیہ اور پاکستان کا ایک ہی موقف ہے’
نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات گہرے تھے اور گہرے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سعودی عرب نے فلسطین کے معاملے پر جو موقف اپنایا ہے وہ واضح ہے اور پاکستان کے موقف سے مماثلت رکھتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور مستقبل قریب میں ہماری اور ملاقاتیں ہوں گی۔

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘میں ہر رائے کو احترام سے دیکھتا ہوں، اگر ہم پر کوئی مثبت تنقید کرتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں جیسے بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے تقریر کی تھیں، میں نے تجاویز کے لیے ان کو خط لکھا ہے کہ اگر آپ کے پاس کشمیر کے معاملے پر کوئی تجاویز ہیں تو ہمیں بتائیں مگر کوئی جواب نہیں ملا’۔

خیال رہے کہ شیریں مزاری نے کہا تھا کہ کشمیر کا بیانیہ دفتر خارجہ موثر انداز میں دنیا کے آگے پیش نہیں کرسکا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو ایک سال مکمل ہونے پر شاہ محمود قریشی نے غیر معمولی طور پر تنبیہہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کشمیر سے متعلق وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس بلانے میں ٹال مٹول کرنا بند کرے۔

نجی چینل ‘اے آر وائی’ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو امید تھی کہ تنظیم، کشمیر کے حوالے سے اجلاس بلائے گی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر کشمیر پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس نہ بلایا گیا تو پاکستان، مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کی مدد پر آمادہ اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے پر مجبور ہوجائے گا۔’

انہوں نے کہا کہ ‘اگر وہ اجلاس بلانے میں ناکام رہے تو پاکستان، او آئی سی سے باہر جاکر اجلاس بلائے گا جبکہ ہم اس حوالے سے مزید انتظار نہیں کر سکتے۔’

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے گزشتہ سال دسمبر میں سعودی عرب کی درخواست پر کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے معذرت کی، اب پاکستان کے مسلمان ریاض سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کشمیرپر قیادت کا مظاہرہ کرے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ہماری اپنی نزاکتیں ہیں جسے آپ کو سمجھنا چاہیے اور خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے۔’

تاہم وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ وہ یہ بات بالکل جذبات میں آکر نہیں کر رہے اور انہیں اپنے بیان کے مضمرات کا اندازہ ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ بات سعودی عرب سے ہمارے اچھے تعلقات کے باوجود کر رہا ہوں، ہم کشمیریوں پر مظالم پر مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔’

دوسری جانب دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ کے ‘متنازع’ بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان کا بیان عوام کے جذبات اور او آئی سی سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔’

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کے عوام کو او آئی سی سے بہت زیادہ توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں جس کی وجہ تنظیم اور اس کے رکن ممالک سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔’