- الإعلانات -

سربراہ پاک بحریہ کا عدالت میں سیلنگ کلب کی تعمیر کا دفاع

اسلام آباد: چیف آف نیول اسٹاف (سی این ایس) نے ’پرتعیش کلب‘ کی تعمیر کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا ہے کہ یہ ایک اسپورٹس کی سہولت گاہ ہے جسے ماحولیاتی ماہرین سے منظوری لینے کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر قائم کیا گیا۔

چیف آف نیول اسٹاف ظفر محمود عباسی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل اشتر اوصاف علی اور راجا اظہار الحسن کے توسط سے جمع کروائی گئی تحریری رپورٹ میں کہا کہ ’نیشنل واٹر اسپورٹس سینٹر (این ڈبلیو ایس سی) ’روایتی لحاظ سے کلب ہے اور نہ ہی کمرشل ادارہ ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’چیف آف نیول اسٹاف نے سابق افسر کو پاکستان میں پانی کے کھیلوں کی تمام سرگرمیوں بشمول بادبانی، کشتی رانی، واٹر اسکینگ اور پیڈل سے چلنے والی کشتیوں کا پیٹرن ان چیف مقرر کیا تھا’۔

رپورٹ کے مطابق’ نیول چیف نے دریائے کنہار، تربیلہ جھیل اور راول جھیل پر پانی کے کھیلوں کے سینٹرز تعمیر کرنے کی ہدایت کی تھی (راول جھیل میں کھیلوں کی سرگرمیاں ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ سے مشروط تھیں)‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ یہ حقیقت عدلیہ کے علم میں ہے کہ راول جھیل میں مختلف ذرائع سے غیر ٹریٹمنٹ کیا گیا سیویج کا پانی اور فضلہ جارہا ہے جس سے پانی انتہائی آلودہ اور زہریلا ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ تعمیرات 25 سال قبل تعمیر کی گئی عمارت کا جدید ورژن ہے۔

نیول چیف کے مطابق نومبر 1993 میں ایک کنسلٹنسی فرم نے تفصیلی تحقیقات کی تھیں جس میں راول جھیل پر آبی کھیلوں کا تفصیلی جائزہ اور نیشنل واٹر اسپورٹس سینٹر کی عمارت کس طرح تعمیر کی جائے، اس کی ہدایات شامل تھیں۔

9 ستمبر 1994 کو وزیراعظم سیکریٹریٹ نے راول جھیل پر نیشنل اسپورٹس سینٹر کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ زمین کی فراہمی اور خزانہ ڈویژن سے فنڈز کے اجرا کو مجاز بنائے۔

سال 2018 میں راول جھیل پر موجودہ سیٹ اپ کی تزیئن و آرائش اور اسے عالمی معیار اور اولمپکس فیڈریشن کے شرائط کے مطابق بہتر بنانے کا فیصلہ ہوا جس میں ماحولیاتی پیمانوں کو سختی سے مدِ نظر رکھا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نیوی حکومتی ہدایات اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تعاون سے راول جھیل پر موجود نیشنل واٹر اسپورٹس سینٹر کی ملکیت گزشتہ 25 سال سے سنبھالے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل واٹر اسپورٹس سینٹر کو ’سی بلائنڈنیس‘ پر قابو پانے اور قومی مفاد میں آبی کھیلوں کے فروغ کے اچھے ارادے کے تحت بہتر بنایا گیا اور اس کی تزیئن و آرائش کی گئی۔

رپورٹ میں عدالت سے یہ درخواست بھی کی گئی کہ مذکورہ معاملہ وسیع تر قومی تناظر اور حکومت کی ہدایات میں دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے پاس مسلح افواج کی کمان ہے۔

نیوی سیلنگ کلب کے معاملے کا پس منظر
خیال رہے کہ جولائی کے مہینے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو اس کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کلب کی عمارت کی غیرقانونی اور غیرمجاز تعمیر کو فوری طور پر روکے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘اتھارٹی کے نوٹس میں ایک مرتبہ پھر یہ آیا کہ غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیاں پھر بحال کردی گئی ہیں اور کلب کو فعال کردیا گیا ہے، یہ سی ڈی اے (بائی لاز) کی صریح خلاف ورزی ہے جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے’۔

ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ‘آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ غیرقانونی/غیرمجاز تعمیراتی کام اور پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی فعال سرگرمیوں کو فوری طور پر روکیں’۔

بعد ازاں راول جھیل کے کنارے تعمیرات کے معاملے میں پاکستان نیول فارمز سے متعلق شکایت کنندہ زینت سلیم کی عدالت عالیہ میں دائر کردہ درخواست پر معاملہ مزید ابھرا تھا اور پھر 16 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ‘غیرقانونی تعمیرات’ کے خلاف درخواست پر چیف آف نیول اسٹاف، اٹارنی جنرل برائے پاکستان اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

جس کے بعد 23 جولائی کی سماعت میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے راول ڈیم کے کنارے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کیس میں پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کردی تھی۔

عدالتی حکم کے بعد 30 جولائی کو کیس کی جو سماعت ہوئی تھی اس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیول حکام کی جانب سے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر پر جواب نہ جمع کروانے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

علاوہ ازیں 6 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین عامر علی احمد، سیکریٹری کابینہ ڈویژن احمد نواز سکھیرا اور چیف آف نیول اسٹاف ظفر محمود عباسی کے خلاف نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

بعد ازاں 7 اگست کو مرکزی درخواست پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب کی نئی رکنیت کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے بحری حکام کو 19 اگست تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔