- الإعلانات -

چیف جسٹس کو جیل پٹیشنز 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو تجویز دی ہے کہ جیل سے متعلق پٹیشنز کو ہمیشہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تا کہ اگرماتحت عدلیہ یا ڈویژن بینچ سے سزا دی گئی ہے تو ایسے کیسز کو تیزی سے نمٹایا جاسکے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ تجویز اس لیے دی کہ عموماً جب عدالت عظمیٰ اس قسم کی جیل پٹیشن یا مجرمانہ کیسز پر حتمی فیصلہ کرتی ہے اس وقت تک درخواست گزار ٹرائل کورٹ کی دی ہوئی اور ہائی کورٹ کی توثیق کردہ عمر قید کی سزا بھگت چکا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس لیے اگر درخواست منظور کرلی جاتی ہے تو اس طرح کا ریلیف بےکار ہوتا ہے کیوں کہ اس وقت تک درخواست گزار تقریباً عمر قید کی سزا کاٹ چکا ہوتا ہے‘۔

مذکورہ تجویز ض 2010 میں ہوئے ایک قتل کے مقدمے پر لاہور ہائی کورٹ کے 31 جنوری 2017 کو دیے گئے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران دی گئی جس کا مقدمہ چنیوٹ کے برانہ پولیس اسٹیشن میں درج کی گیا تھا۔

سرفراز نامی شخص کی دائر درخواست پر سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود پر مشتمل بینچ نے رواں برس 20 اگست کو سماعت کا آغاز کیا تھا۔

اپنے حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ اس قسم کی جیل پٹیشنز کی سماعت کی وہ اپیل کو مسترد کرنے یا ماتحت عدالت سے دی گئی سزا میں تبدیلی کا فیصلہ نہیں کرسکا۔

جس کے نتیجے میں اس قسم کے کیسز حتمی فیصلے کے لیے 3 رکنی بینچ کے لیے مقرر کیے گئے لیکن اس وقت تک عموماً درخواست گزار اپنی سزا پوری کرچکے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ تجویز عدالت عظمیٰ میں زیر التوا درخواستوں کے بوجھ کو کم کرے گی۔

خیال رہے کہ اس وقت عدالت عظمیٰ میں ڈھائی ہزار جیل پٹیشنز زیر التوا ہیں۔

جسٹس قاضی فائز نے عدالتی دفتر کو چیف جسٹس کے غور کے لیے ایک نوٹ شامل کرنے کی ہدایت کی جس میں ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے جاری کردہ فیصلے کے خلاف اپیل کو 3 عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ کے لیے مقرر کرنے کی تجویزتھی کیوں کہ سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ ہی اس قسم کے فیصلے میں تبدیلی یا اسے کالعدم کر سکتا ہے۔

تمام فریقین کو سنوائی کا موقع دینے کے لیے تجویز میں کہا گیا کہ شکایت گزار کو پیشگی نوٹد جاری کیا جائے اور اگر کوئی زخمی ہو تو ایسے زخمی ہو اور درخواست گزار کو اگر وہ نمائندگی نہ کرسکے اور کسی وکیل کو منسلک کرنا چاہےتو وکیل کرسکے۔