- الإعلانات -

پنجاب: خاتون وکیل کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کیلئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل

اوکاڑہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے ضلع اوکاڑہ کے دیپالپور شہر میں خاتون وکیل کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی اعلی سطح کی تفتیشی ٹیم تشکیل دی ہے۔

مذکورہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا اغوا کاروں سے بازیابی کے بعد خاتون وکیل نصرین ارشاد کی ویڈیو اور تصاویر ٹویٹر پر وائرل ہوگئیں۔

ویڈیو میں خاتون کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ایک وکیل ہیں۔

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان کی تصاویر اور ویڈیوز کو ٹوئٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ٹوئٹر پر آج صبح ہی سے ‘جسٹس فورنصرین ایڈوکیٹ’ کے نام سے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل تھا۔

خاتون وکیل کے بیٹے کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق نصرین ارشاد کو 15 اگست کو دیپالپور کچہری کے قریب اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ کام کرتی تھی۔

درج ایف آئی آر کے مطابق انہیں ‘گن پوائنٹ پر نامعلوم افراد’ نے اغوا کیا اور مزید کہا کہ اس کی ‘زندگی خطرے میں ہے’۔

پولیس بیان کے مطابق ڈی پی او عمر سعید ملک نے دو روز قبل بازیاب ہونے والی نصرین ارشاد کی ڈی ایچ کیو ہسپتال میں عیادت کی۔

پولیس کے مطابق عمر سعید ملک نے خاتون وکیل کے شوہر اکمل وٹو اور بیٹے محمد معیز سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ قصوروار ‘چاہے وہ کتنے بھی بااثر ہوں’ قانون سے بچ نہیں پائیں گے۔

معاملے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (تحقیقات) شمس الحق درانی، دیپالپور سرکل تحصیل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) عابد حسین ظفر اور ڈی ایس پی (قانونی) کلیم اللہ شامل ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ ہسپتال سے فارغ ہوتے ہی خاتون کا بیان عدالت میں ریکارڈ کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق نصرین ارشاد 6 دیگر مقدمات میں شکایت کنندہ ہیں ان میں سے 5 حویلی لکھا تھانے میں درج ہیں جبکہ ایک بصیر پور تھانے میں درج ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں حویلی لکھا پولیس اسٹیشن میں نصرین ارشاد کی جانب سے دائر ایک مقدمے میں کہا گیا تھا کہ انہیں 3 افراد نے اغوا کیا تھا اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا اور ایک خالی دستاویزات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔