- الإعلانات -

زمینی حقا ئق کو سمجھنے کی ضرورت ہے( ایس کے نیازی)صوبوں کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں( خرم دستگیر) کرپشن ختم ہو نی چا ہیئے( محسن شیخانی)

کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی ، حکومت اپوزیشن کو ساتھ لیکر نہیں چلنا چاہتی ، کرونا کے خاتمے حوالے سے عمران خان کو کریڈٹ دینا ہوگا ، معشیت بہتر ہو رہی ہے ،سردارخان نیازی
اگر حکومت نواز شریف کو بجلی ، کراچی میں امن ، پاکستان کو دہشتگردی سے پاک کرنے کا کریڈٹ دے دیں تو ہم عمران خان کو بھی کریڈٹ دے دیں گے، ن لیگ راہنمائ
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ چینی کی قیمت میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے ، عوام آج سوال کررہی ہے کیوں مہنگائی ہو رہی ہے ، اپوزیشن والے بھی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں، مسئلہ کشمیر ہو ، یا سرحدوں کامعاملہ ، وزیر اعظم اپوزیشن سے بات کرنا پسند نہیںکرتے ، اس سے ملکی حالات درست ہوتے ، اگر معنی خیز مشاورت نہیں ہو گی تو ہم اس طرح خراب حالات سے برباد رہیں گے ، ایس کے نیازی نے کہا کہ ایوان مچھلی منڈی بنا رہتا ہے ، کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی ، حکومت اپوزیشن کو ساتھ لیکر نہیں چلنا چاہتی ، انہوں نے کہا کہ کرونا کے خاتمے حوالے سے عمران خان کو کریڈٹ دینا ہوگا ، معشیت بہتر ہو رہی ہے ، اپوزیشن ان مثبت اقدام کو کیسے نظر انداز کرے گی ، خرم دستگیر نے کہا کہ اگر حکومت نواز شریف کو بجلی ، کراچی میں امن ، پاکستان کو دہشتگردی سے پاک کرنے کا کریڈٹ دے دیں تو ہم عمران خان کو بھی کریڈٹ دے دیں گے ، جیسا آپ نے کہا کہ معشیت بہتر ہو رہی ہے آج لاکھوں مزدور بے روزگار ہوئے ، پاکستانی معشیت دو سالوں میں اربوں نیچے گر گئی ، تمام رپورٹس کے باوجود چینی مہنگی ہو رہی ہے ، لیکن کو 60لاکھ گندم چوری ہو گئی حکومت اس کا ڈس کریڈٹ بھی قبول کرے ، حکومت کس طرح صوبوں کے حقوق سلب کررہی ہے ، بھارت نے کشمیر کو ہضم کردیا، پاکستان نے سامنا بھی نہ کیا، سعودی عرب کیساتھ تعلقات کو خراب کر دیا، ایس کے نیازی نے کہا کہ اپوزیشن کہیں نظر آرہی ، حکومت جو قانون چاہتی ہے وہ منظور کرا لیتی ہے ، میرے پروگرام میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کسی صورت اکھٹے نہیں ہو سکتیں ، تحریک عدم اعتماد کامیاب ن ہیں ہو سکتی ، خرم دستگیر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ معشیت کی آر میں حکومت کالے قانون بنانے کی کوشش کی ، ہماری مخالفت کی وجہ سے رک گئے ، مشترکہ اجلاس میں متعدد جماعتوں پر مشتمل ترامیم ہم نے منظور کرالیں ، کل بھی سینیٹ سے جو قوانین مسترد ہوئے وہ اپوزیشن کی وجہ سے ہوئے ، ایشویہ ہے کہ فیٹف قوانین عوامی حقوق کچلنے کیلئے نہیں استعمال ہونے چاہئیں ، ایسے قوانین ہم ہمیشہ روکے گے ، اور رک رہے ہیں، آباد پاکستان کے چیئرمین محسن شیخانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معشیت بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے ، جب معشیت تباہ ہو تو ملک کی تمام چیزیں تباہ ہو جاتی ہیں، اس سے ملک کی ترقی وابستہ ہے چالیس ، بیالیس سالوں میں ہم نے دیکھا کہ اب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ایشو آرہے تھے، ان کا حل کیا ، تمام اداروں نے اپنے اپنے کام کرنے تھے، پھر اجلاس ہوئے ، پراگرس آنا شروع ہو ئی ، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو کہیں نہ کہیں سہولت ملے ، کنسٹریکشن سے 72صنعتیں ایکٹو ہوں گی، 50لاکھ فلیٹ ایک سوچ ہے ، ہم نے ایک لاکھ گھروں کا فائنل کر لیاہے ، تعمیراتی پیکج کے حوالے سے میٹنگز جا ری ہیں، وزیر اعظم نے ملکی تاریخ میں تعمیراتی پیکج دیا ، ایس کے نیازی نے کہا کہ کچھ تلخ حقائق ہین ان کا سامنا کرنا پڑے گا، جب تک زمینی حقائق کا سامنا کریں گے تو کام چلے گا، اگر زمینی حقائق کاعلم نہیں ہو گا تو مسائل حل نہیں ہونگے ، خرم دستگیر نے کہا کہ معاشیات کی کتب میں لکھا ہے کہ مہنگائی کس طرح کم ہو گی، جو لوگ قسطوں پر چیزں لیتے ہیں اس کا انٹر سٹ ریٹ پر فیصلہ ہوتا ہے ، اس حوالے سے پی ٹی آئی حکومت نے تباہ کن فیصلے کیے اسی وجہ سے دو سالوں میں 20فیصد صنعتیں بند ہو گئیں ، آنکھیں بند کر کے اور ڈکٹیشن پر معاملات نہیں چل سکتے ، پلاٹوں کی قیمت بڑھنا معشیت کی بہتری نہیں، جب تک روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہونگے مسائل حل نہیں ہونگے ، حکومت نے دو سالوں میں گزشتہ5سالوں سے قرضے لئے گئے ، مجھے خوشی ہو گی کہ ملک میں صنعتیں چلیں، لیکن حکومت کی اکنامک پالیسی سخت ترین تباہ کن ہے ، اس پر محسن شیخانی نے کہا کہ جو حقائق ہیں ان کو دیکھنا ہو گا، یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے قرضہ لیا، ہم 1.3ٹریلین کے پراجیکٹ لا رہے ہیں، 7پراجیکٹس کا علان کر دیا ہے ہم نے غریبوں کو چھت فراہم کرنا ہے ، صرف فنڈنگ کنسٹریکشن کیلئے ہیں پلاٹوں کیلئے نہیں، ایس کے نیازی نے کہا کہ کنسٹرکشن کے حوالے سے سرمایہ کاری کا پوچھا نہیں جائے گا، خرم دستگیر نے کہا کہ اگر ن لیگ ایمنسٹی دے تو چور ڈاکو کہا جائے ، لیکن اگر حکومت خود ایمسنٹی دے تو درست ہے ، حکومت تسلیم کرے کہ ماضی میں جو ایمنسٹی دی گئی وہ بھی درست تھی، ایس کے نیازی نے کہا کہ عمران خان کے علاوہ تمام ما شاء اللہ ہیں، محسن شیخانی نے کہا کہ جس نے بھی کوئی اچھا کام کیا اچھاکہا جائے ، سندھ گورنمنٹ نے 40پرا جیکٹہمارے منظور کئے یہ ایک اچھی بات ہے ، کرپشن ہر جگہ ہے ، اسے ختم ہونا چاہیے ، ہم نے ملک کو دیکھنا ہے ، ہمیں ملکر چلنا ہو گا، خرم دستگیر نے کہا کہ جس رقم میں آپ نے پشاور بی آری ٹی بنائی اس رقم میں شہباز نے تین میٹرو بنا دیں ، انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے موٹرویز بنائی ، بجلی کا مسئلہ حل کیا، تھر کول سے بجلی بنائی ، پی ٹی آئی کومت نے جو قرض لیا ہے وہ کس مد میں لیا، 11ارب سے زیادہ کا قرضہ کیوں لیا گیا ، آپ نے اتنا برا قرض لیا اس کی بھی تو وضاحت ضروری ہے ، صرف کنسٹرکشن سے تمام امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں ، سندھ ، بلوچستان ، گلگت بلتستان میں بڑے مسائل ہیں، وہاں کام ہوتا نظر نہیں آرہا ، جو قرضہ لیا ہے اس کا جواب کیا ہے ، جب ان سے پوچھا جائے تو حکومت والے شور مچانا شروع کر دیتے ہیں، ایس کے نیازی نے کہا کہ اگر افواج پاکستان نہ ہو تو قانون سازی ہی نہ ہو، وہ کسی کام میں مداخلت نہ کریں تو کام نہیں ہوتا ، فوج کی حکومت کو مکمل حمایت حاصل ہے ، خرم دستگیر نے کہا کہ عمران خان کا جملہ زبردست ہے کہ آٹا مہنگا ہو اور مزید مہنگائی ہو تو ملک کا وزیر اعظم چور ہے تو آج مہنگائی آسمانوں پر جار ہی ہے ۔
سچی بات