- الإعلانات -

کورونا وائرس سے جسم کو پہنچنے والے ایک اور حیرت انگیز نقصان کا انکشاف

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متعدد جان لیوا پیچیدگیوں جیسے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچنا، گردوں اور دل کے مسائل، فالج اور دیگر کا سامنا ہوسکتا ہے مگر اب معلوم ہوا ہے کہ اس کے نیتجے میں مریض ذیابیطس کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

درحقیقت ایسا امکان سامنے آیا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں میں انسولین نہ بننے کے نتیجے میں ذیابیطس کا مرض سامنے آسکتا ہے۔

یہ بات ایک 19 سالہ جرمن فرد کے کیس میں سامنے آئی جس میں کووڈ 19 کی علامات نظر نہیں آئی تھیں بلکہ وہ ہسپتال انسولین نہ بننے کے نتیجے میں ہونے والی ذیابیطس کے باعث پہنچا۔

اس نوجوان میں ذیابیطس کے مرض کو تشکیل پانے سے 5 سے 7 ہفتے قبل اس کے والدین میں کووڈ 19 کی علامات سامنے آئی تھیں۔

اس کے بعد پورے خاندان کا ٹیسٹ ہوا جس میں والدین اور نوجوان میں میں کووڈ 19 اینٹی باڈیز پازیٹو رہیں، جس سے عندیہ ملا کہ وہ سب کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

تاہم نوجوان میں اس بیماری کی علامات کبھی سامنے نہیں آئیں۔

مگر جب اس نوجوان کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تو چند ہفتوں میں اس کے جسمانی وزن میں 5 کلو سے زیادہ کمی آچکی تھی، پیشاب زیادہ آرہا ہے جبکہ جسم کے بائیں جانب تکلیف ہورہی تھی۔

اس کا بلڈ شوگر لیول 550 ملی گرام ڈی ایل تھا جبکہ کسی صحت مند فرد میں یہ سطح 140 ملی گرم ڈی ایل ہوتی ہے۔

ڈاکٹروں نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ نوجوان ذیابیطس ٹائپ ون کا شکار ہوچکا ہے اور ایسا ثابت بھی ہوا مگر یہ اس بیماری کی ایسی جینیاتی قسم نہیں تھی جو عام طور پر ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں میں پائی جاتی ہے، بلکہ یہ ایک جینیاتی قسم تھی جو کبھی کبھار ہی ذیابیطس کے اس قسم سے منسلک ہوتی ہے۔

اس نوجوان میں ایسی اینٹی باڈیز بھی نہیں تھیں جو عام طور پر ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں میں تشخیص کے وقت موجود ہوتی ہیں۔

اس دریافت نے ماہرین کے ذہنوں کو چکرا دیا کیونکہ وہ سمجھ نہیں پائے تھے کہ یہ ذیابیطس ٹائپ ون ہے یا ٹائپ ٹو یا بالکل ہی کوئی نئی قسم۔

ان کے سامنے یہ سوال بھی تھا کہ اگر یہ ذیابیطس ٹائپ ون نہیں تھی تو کیا یہ اچانک خود غائب بھی ہوجائے گی؟

ان کو یہ بھی مکمل یقین نہیں تھا کہ کووڈ 19 کے باعث یہ نوجوان ذیابیطس کا شکار ہوا، ایسا بھی ممکن تھا کہ وہ پہلے سے اس کا شکار ہو مگر تشخیص نہ ہوئی ہو۔

مگر پھر جرمنی کی یونیورسٹی میڈیکل سینٹر سکلسوگ ہولسٹن کے محققین کا مانان تھا کہ ممکنہ وضاحت یہی ہے کہ کووڈ 19 سے وہ نوجوان اچانک ذیابیطس کا شکار ہوا۔

طبی جریدے نیچر میٹابولزم میں شائع تحقیق کے مطابق لبلبے میں موجود بیٹا خلیاات میں ایس ٹو نامی ریسیپٹرز کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے۔

یہ وہی ریسیپٹرز ہیں جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ جن کو کورونا وائرس ہدف بناکر خلیات کو شکار کرتا ہے۔

لبلبے کے بیٹا خلیاات انسولین بنانے کا کام کرتے ہیں، یہ وہ ہارمون ہے جو غذا میں سے شکر کو جسمانی خلیات کے ایندھن کے لیے استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

محققین نے خیال ظاہر کیا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں لبلبے کے خلیات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ عمل اس سے ملتا جلتا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ون میں ہوتا ہے، جس میں جسمانی مدافعتی نظام کسی وائرل انفیکشن کے باعث صحت مند خلیات پر حملہ کردیتا ہے، جس سے بیٹا خلیات کو نقصان پہنچتا ہے یا وہ تباہ ہوجاتے ہیں اور ذیابیطس ٹائپ ون کی تشخیص ہوتی ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کا جسم انسولین کو بنانے سے قاصر ہوجات ہے یا نہ ہونے کے برابر بناتا ہے اور اس کے شکار افراد کو زندگی بھر انسولین کے انجیکشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس حوالے سے نیویارک کے لیونکس ہل ہاسپٹل کی ماہر ڈاکٹر کیرولین میسیر نے کہا کہ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے ذیابیطس ٹائپ ون کے کیسز میں اضافے کے بارے میں سنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئی تحقیق میں شامل ماہرین کی جانب سے کووڈ 19 سے بیٹا خلیات کو نقصان پہنچنے کا عندیہ قابل فہم ہے۔

دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ ذیابیطس ٹائپ ون یا ٹائپ تو نہیں بلکہ اچانک انسولین نہ بننے کا باعث بننے والی ذیابیطس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح اچانک ذیابیطس کی تشخیص بظاہر انسولین کی مزاحمت کا نتیجہ ہوسکتی ہے اور ایسے افراد کو انسولین کی زیادہ مقدار لینے کی ضرورت پڑسکتی ہے، انسولین کی مزاحمت عام طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں میں عام ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ طریقہ کار جو بھی ہو عام عوام کو کووڈ 19 کے شکار ہونے کے بعد ذیابیطس کی علامات کے بارے میں محتاط رہنا ہوگا۔

ان علامات میں ہر وقت شدید تھکاوٹ، منہ خشک ہونا، بہت زیادہ پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا اور بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہونا شامل ہیں۔

انہوں نے یہ خط اس مریضوں کے مشاہدے کی بنیاد پر تحریر کیا تھا جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور بعد میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ایس 2 نامی وہ پروٹین جس کو سارس کوو 2 وائرس خلیات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، صرف پھیپھڑوں میں ہی نہیں بلکہ ان تمام اعضا اور ٹشوز میں پایا جاتا ہے جو گلوکوز میٹابولزم میں کردار ادا کرتے ہیں جیسے لبلبہ۔

محققین کا ماننا ہے کہ ان ٹشوز میں داخل ہوکر یہ وائرس ممکنہ طور پر اپنی نقول بناتا ہے اور گلوکوز میٹابولزم کے افعال کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بات کئی برس پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ وائرس انفیکشن ذیابیطس ٹائپ 1 کا شکار بناسکتا ہے۔

کووڈ 19 کے مریضوں میں ذیابیطس کے نئے کیسز کو محققین نے کووڈیب رجسٹری پروجیکٹ کا نام دیا ہے۔

کوو ڈیپ رجسٹری پروجیکٹ کے محقق اور تحقیقی ٹیم میں شامل کنگز کالج لندن کے میٹابولک سرجری کے پروفیسر فرانسسکو روبینو نے بتایا کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں پہلے ہی ذیابیطس کے شکار تھے اور انہیں اس کا علم نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یقیناً اس بات کا بھی امکان ہے کہ ذیابیطس کا علم انہیں ہسپتال میں اب ہوا ہو کیونکہ وہاں ان کا مکمل معائنہ ہوا اور انفیکشن بڑھنے سے شوگر بھی بڑھ گئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ تعداد میں کوڈ 19 میں ذیابیطس کی تشخیص ہونا درحقیقت توقعات سے بہت زیادہ ہے اور یہ مشکل لگتا ہے کہ اتنے لوگ کورونا وائرس کی تشخیص سے قبل ذیابیطس سے لاعلم رہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے والے چند مریض پہلے ہی اس بیماری کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہوں اور کووڈ 19 سے ان کے میٹابولزم کو مزید نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا ‘کووڈ 19 سے میٹابولزم کے افعال معطل ہوگئے اور ذیابیطس کا مرض سامنے آگیا’۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ مریضوں میں میٹابولزم افعال پہلے سے متاثر نہ ہوں بلکہ یہ وائرس اتنا طاقتور ثابت ہوا کہ ذیابیطس کے مرض کا باعث بن گیا، ہم ابھی ان مشاہدات کی بنیاد پر صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں’۔

ایسے شواہد بھی سامنے آرہے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس پری ذیابیطس کے مریضوں میں شدید پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے ۔

ذیابیطس کو کووڈ 19 کی شدت میں اضافے اور اموات سے جوڑا جاتا ہے جبکہ کووڈ 19 سے انتقال کرجانے والے 20 سے 30 فیصد افراد ذیابیطس کے بھی شکار تھے۔

پروفیسر فرانسسکو روبینو کا کہنا تھا ‘ذیابیطس چند سب سے عام امراض میں سے ایک ہے اور اب ہم نے احساس کرنا شروع کیا ہے کہ ان دونوں بیماریوں کے تصادم کے نتائج کیا ہوتے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وائرس کے انسانوں پر اثرات کو بہت کم وقت ہوا ہے اور ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ وائرس کس میکنزم کی مدد سے گلوکوز میٹابولزم پر اثرانداز ہوتا ہے۔