- الإعلانات -

کرونا وائرس پر قابو پانے کا سو فیصد کریڈٹ عمران خان کو دیتا ہوں ، پارلیمانی نظام میں ہمیں کرپشن اور اقرباء پروری کے سوا کچھ نہیں ملا،

پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہو چکا، صدارتی نظام آئے ، قواعد و ضوابط طے ہونے چاہئیں ، سعید مہدی

پولو ریفرنس گرائونڈ میں مجھے وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشکش کی گئی جسے میں ٹھکرا دیا ، 90کی دہائی میں شہباز شریف کے وزیر اعلیٰ بننے کی مخالفت کی تھی
اسحاق ڈار سیاستدان نہیں ، ہمارے یہاں جاگیر دارانہ نظام ہے ، عام آدمی انتخابات نہیں لڑ سکتا ، وڈیرہ جس کو کہتا ہے عوام اس کو ہی ووٹ دیتی ہے
ن لیگ میں کچھ نہ کچھ خاندانی اختلافات ہیں، جن کے بارے عوام بھی جانتی ہے ، جنید صفدر بھی اچھے سیاستدان بنیں گے ، شہباز کے مقابلے میں عوام مریم نوا ز کے ساتھ ہے
اقتدار ایسی چیز ہے جس میں نہ باپ بیٹے کا نہ بیٹا باپ کا ہوتا ہے ، نواز شریف ہی مسلم لیگ ن اصل لیڈر ہیں، اب وہ مریم کو یا شہباز شریف کو کس کو لیڈر بناتے ہیں کچھ نہیں کہہ سکتا
ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی کے بعد ضیاء الحق نے بھی فاتحہ پڑھی ، پروگرام ” سچی بات ” میں بہت سی باتوں بارے تشنگی رہ گئی میں کتاب لکھ رہا ہوں خوشی ہو گی کہ آپ پبلش کردیں
سیاست میں اپوزیشن نہ ہو تو جمہوریت نہیں چل سکتی ، سابق وزیر اعظم مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کے ایس کے نیازی کے پروگرام ” سچی بات ” ہوشربا انکشافات
اسلام آباد (روز نیوز رپورٹ)سعید مہدی نے کہا کہ اگر میں امین ہوں تو پھر امین پردہ نہیں اٹھاتا دوسری بات یہ ہے کہ میرے پاس ایسا کوئی راز ہے نہیں میں سرکاری ملازم تھا ۔میرے پاس اہم سیٹیں نہیں جس کی وجہ سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے راز میرے پاس ہیں ۔یہ بات ضرور ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ میر قربت رہی ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں میں ڈی سی تھا اور میانوالی تعینات تھا،اور جب بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت ڈی سی راولپنڈی تھا ۔آپ نے جو بات کی کہ جب میاں نواز شریف کا اقتدار ختم ہو ا اور مشرف کا شروع ہوا تو انہوں نے مجھے قید کر دیا ۔راولپنڈی سے مجھے جب کراچی لے جایا گیا تو مجھے وہاں رکھا گیا ۔10نومبر کو جو ایف آئی آر درج ہوئی تھی اس میں میرا نام نہیں تھا۔ میرے پاس بعد ازاں لوگ آتے رہے کہ اگر آپ وعدہ معاف گواہ بن جائیں انہیں وعدہ معاف گواہ نہیں چاہیے تھا وہ چاہتے تھے امین اللہ چوہدری کے بیان کو میں سکینڈ کردوں تو میں ان سے یہ کہتا تھا کہ امین اللہ چوہدری نے جو بیان دیا ہے وہ صحیح اور سچ بھی ہو سکتا ہے لیکن میں عدالت میں اس کے بیان کو کسی طرح سے بھی سپورٹ نہیں کرونگا ۔کیونکہ یہ غیر اخلاقی بات ہو گی ۔ کوئی عزت کی بات نہیں ہے کہ آپ اس بند ے کے خلاف بیان دیں جو گرا ہوا ہویا تو میں اس وقت بولتا جب وہ وزیراعظم تھے ۔کہ آپ یہ غلط کام کر رہے ہیں ۔اس طرح نہ کریں ، وہ تو ایک ہمت کی بات تھی گرے ہوئے آدمی کیخلاف بیان دے دینا بہت بہادری کی بات نہیں ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ اپروول ہونا کوئی بہت بڑے اعزاز کی بات نہیں ہے میں تو آصف علی زرداری کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا تھا، میں نے ان کیخلاف جو نیب کے پراسکیوٹر تھے اڈیالہ جیل میں آئے تھے ۔ اور نوید قمر اس کے چشم دید گواہ ہیں ۔کہ انہوں نے مجھے سے کہا تھا کہ آپ ان کیخلاف بیان دے دیں وعدہ معاف گواہ بن جائیں ، پولو گرائونڈ ریفرنس میں پھر آپ گھر چلے جائیں گے ۔اور آپ کو مسائل کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔میں نے کہا کہ میں اس طرح کا میں نے کہا کہ میں اس طرح کا بیان نہیں دے سکتا ۔میں سوال کرتا ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے کہ کیا یہ بیان دے کر باہر آ گیا ۔میں میرٹ پر کیس لڑوں گا اور اللہ نے چاہا تو میں سرخرو ہونگا ، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو مجھے اس کی سزا مل جائے گی۔لیکن میں بیان دے کر نہیں نکلوں گا ۔میں یہ نہیں چاہتا کہ جب میرے بچے کہیں سے گزریں تو انہیں کہیں کہ ان کا والد وعدہ معاف گواہ بن کر نکلا تھا۔ہماری زندگی عزت کے ساتھ گزری اور اسی عزت کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں چاہے وہ جیل میں گزرے یا باہر ۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں دوستی مستقل بنیادوں پرنہیں ہوتی ۔بہت سے لوگ آپ دیکھیں گے کہ آج وہ ایک پارٹی میں تو کل دوسری پارٹی میں ہونگے ۔ہمارے ملک میں ایک یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ ہم اپوزیشن ، اپوزیشن کے طور پر نہیں کرتے ۔دشمنی کے طور پر کرتے ہیں ۔مطلب یہ ہے کہ ہر مخالف دشمن ہے ۔جو کہ درست نہیں ہے ۔ سیاست میں اپوزیشن نہیں ہو گی تو جمہوریت نہیں چل سکتی ۔جمہوریت کے لیے اپوزیشن کا ہونا بہت ضروری ہے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نواز شریف کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو اس سے ایک دن پہلے شہباز شریف صاحب نے یہ کہا تھا کہ میں پیٹ پھاڑ کر دولت نکال لونگا ۔تو نواز شریف نے پوچھا کہ شہباز شریف میں نے کل تمہارا انٹرویو دیکھا تھا تم کہہ رہے تھے کہ پیٹ پھاڑ کر دولت نکالو گے تو زرا مجھے بھی بتائو کہ پیٹ پھاڑ کر وہ دولت کس طرح نکالتے ہیں ۔شہباز شریف تھوڑے سے کھسیانے سے ہوئے لیکن اگلے دن ان کا وہی انٹر ویو آگے بڑھانا تھا، انہوں نے کہا کہ میں آگے کوئی بات نہیں کہونگا کہ میاں صاحب نے مجھے سے پوچھا ہے کہ پیٹ پھاڑ کر دولت کیسے نکالی جاتی ہے ۔مجھے اس سلسلے میں اب کوئی بات نہیں کرنی ۔میں کہہ رہا تھا کہ عوام ان کی باتوں پر اعتبار نہیں کرتی ۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ کن باتوں پر اعتبار کریگی ۔ٹھیک ہے عوام بہت تعلیم یافتہ بھی ہے لیکن عوام شعور عقل سمجھ رکھتی ہے انہیں پتا ہے کونسی چیز غلط ہے اور کونسی درست ۔جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے تو دونوں پارٹیوں کے پاس کرپشن کیسز ہیں ان کو جو پریشانی ہے وہ تو ہو گی، قوم بھی پریشان اور شرمندہ ہوتی ہے کہ ہمارے رہنمائوں کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے ۔یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون چور ہے اور کون نہیں ہے ۔اور عدالت میں یہ بات ہو جائے گا کہ کس نے چوری کی ہے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر آپ کے پاس ثبوت موجود ہیں تو پھر چوری بھی ثابت ہو جاتی ہے ۔ویسے تو ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو جو پھانسی لگی ہے تو میں اس وقت ڈی سی راولپنڈی تھا۔اگلے دن ضیاء الحق نے وزارت خارجہ میں جانا تھا انہیں وہاں کوئی پریزنٹیشن دینی تھی ۔ضیاء الحق صاحب ٹائم کے کوئی بہت زیادہ پا بند نہیں تھے ۔ بھٹو کو صبح 2بجے پھانسی لگی ہے اور خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ ضیاء الحق نہیں جائیں گے ۔ضیاء الحق جب جیل کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ان کے اے ڈی سی جی نے مجھے بتایا ایم ایس بریگیڈیئر ظفر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔جو سکوائش کھیلتے ہوئے وفات پا گئے تھے ۔ضیاء الحق نے جیل کے سامنے سے گزرتے ہوئے پوچھا کہ غالباً بھٹو صاحب کو پھانسی دیدی گئی ہے تو ایم ایس نے کہا کہ جی سر ان کو پھانسی دیدی گئی ہے ۔ضیاء الحق نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ میرے بہت اچھے تعلقات تھے اور وہ میرے ساتھ پیار بھی کرتے تھے ۔لیکن اب کیا کریں عدالت جو فیصلہ کر دے ۔اس پر عمل تو کرنا پڑتا ہے ہمیں نہیں پتا کہ انہیں ابھی تک دفنا دیا گیا ہے کہ نہیں کیونکہ کہ کہتے ہیں کہ دفنانے کے بعد بھی فاتحہ پڑھی جاتی ہے ۔ حالانکہ ایک ایک چیز ایک ایک منٹ طے تھا کہ کس وقت جہاز پہنچے گا کس وقت نعش دی جائے گی ، کس وقت دفنایا جائے گا ، کہنے لگے کہ چلیں ایک فاتحہ پڑھ لیتے ہیں تو ضیاء الحق نے فاتحہ پڑھی ۔ڈرائیور بھی فاتحہ پڑھنے لگا تو کسی نے کہا کہ تم گاڑی چلائو ۔ایک سوال کے جواب میں سعید مہدی نے کہا کہ شہباز شریف اور میرے ما بین جو تنائو رہتا تھا اس کا تو مجھے علم نہیں لیکن وہ مجھے پسند نہیں کرتے تھے ۔اور مجھے وجوہات کا علم نہیں مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آیا کہ جب میں جیل میں تھا اوریہ جیل لانڈھی تھی تو شہباز شریف نے مجھ سے بات کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ تھا کہ جب 1997کے الیکشن ہوئے تھے تونواز شریف نے کہا تھا کہ میں سعید مہدی کو چیف سیکرٹری پنجاب لگانا چاہتا ہوں ۔ شہباز شریف نے کہا کہ OVER MY DED BODY تو نواز شریف نے کہا نہیں نہیں میں ایسا نہیں کرونگا ۔پھر انہوں نے مجھے سندھ بھیج دیا ۔میں نے شہباز شریف سے پوچھا کہ سر آپ کو مجھ سے کیا مسئلہ تھا ۔کہنے لگے کہ آپ نے مجھے 1990ء میں چیف منسٹر پنجاب نہیں بننے دیا ۔میں نے کہا کہ میں کون ہوتا ہوں کسی کو بنانے والایا نا بنانے والا ۔سعید مہدی نے کہا کہ میں جب کمشنر راولپنڈی تھا جب 1990ء کا الیکشن ہوا میں لاہور گیا ہوا تھا تو میں نے کہا کہ میں میاں صاحب کو ذاتی طور پر مل کر مبارکباد دے دوں میاں صاحب ماڈل ٹائون بیٹھے تھے ۔ جو ان کا دفتر بن گیا ہے وہ پہلے ان کے والد صاحب کا گھر تھا ۔انہوں نے دو گھر بنائے تھے ایک میں میاں نواز شریف دوسرے میں شہباز شریف رہتے تھے ، میں وہاں گیا تو کافی گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ لوگ مبارکباد وغیرہ دینے آئے ہونگے ۔باہر جو بندہ کھڑا تھا میں نے پیغام بھجوایا کہ نواز شریف سے کہیں کہ میں ملنے آیا ہوں ۔اس آدمی نے کہا کہ آج تو ملاقات نہیں ہو سکے گی۔ کہ بڑے میاں صاحب آئے ہوئے ہیں ، تو میں نے کہا کہ تو کیا ہو گیا میں نے مل کر دو منٹ کی مبارکباد ہی دینی ہے ۔ آپ کہہ دیں وہ نہیں ملنا چاہیں گے تو میں واپس چلا جائوں گا۔میری بد قسمتی یہ ہوئی کہ یہ مجھے بلا لیا میں اندر گیا تو بڑے میاں صاحب یعنی کے ان کے والد صاحب بیٹھے ہوئے ،بریگیڈیئر قیوم، نواز شریف بیٹھے تھے ، شہباز شریف بیٹھے تھے ، جنرل جلالی بیٹھے تھے اور مجید نظامی صاحب بیٹھے تھے ۔یہ تما م کنگ میکر تھے جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے ایک دم میاں صاحب نے کہا کہ HEAR COME GREAT COMMISNOR نواز شریف کا بات کرنے کا اپنا ایک انداز تھا میں نے کہا سر میں تومبارکباد دینے آیا ہوں کہ نواز شریف انتخابات میں فاتح قرار پائے ہیں انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں بیٹھ جائو بیٹھ جائو میں بیٹھ گیا بریگیڈیئر قیوم نے کہا کہ جنرل صاحب کا خیال ہے کہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا جائے ۔ میں نے کہا کہ کیا نواز شریف صاحب وزیراعظم نہیں بن رہے انہوں نے کہا کہ نہیں وہ تو بن رہے ہیں میں تو پنجاب کی بات کررہا ہوں ۔میں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بھائی وزیر اعظم ہو اور دوسرا 62فیصد آبادی کا وزیراعلیٰ ہویہ میاں نواز شریف کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔میں نے یہ کہہ دیا کہ عوام کو یہ پسند نہیں آئے گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیازی صاحب آپ نے جو شہباز شریف والی بات پوچھی تھی اس میں ان کے والد صاحب نے کہا تھا کہ مہدی صاحب نے جو بات کی ہے میں اس سے کی حمایت کرتا ہوں اور غلام حیدر وائیں ہی وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے ۔وہ میرا قصور کہہ لیں یا گناہ کہہ لیں بس وہ تھا ۔شہباز شریف نے مجھے جیل میں بتایا کہ اسی وجہ سے میں نے آپ کو چیف سیکٹری پنجاب نہیں لگنے دیا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ٹھیک ہے کہ آپ صوبوں کو اختیارات دیں لیکن اگر آج کوئی بڑا صوبہ حکومت کے ساتھ نہ ہو تو وفاقی حکومت اس کے بغیر صفر ہے ۔اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس پر بحث ہونی چاہیے میں تو حیران ہوں کہ اسحاق ڈار سیاست دان نہیں تھے وہ اکائونٹس کے آدمی تھے۔ نواز شریف کے بزنس کو دیکھتے رہے پھر میاں صاحب نے انہیں وزیر خزانہ بنا دیا ۔لیکن رضا ربانی صاحب تو بڑے سیاستدان ہیں مجھے نہیں سمجھ آتا کہ آخر کار وہ کیوں اٹھارویں ترمیم کے حامی بنے ۔ اگر وہ نہ سپورٹ کررہے ہوتے تو اٹھارویں ترمیم نہ بنتی۔نیازی صاحب آپ نے کورونا وائرس کا ذکر کیا تو میں کہتا ہوں کہ اس سلسلے میں میں سو فیصد کریڈیٹ وزیراعظم عمران خان کو دیتا ہوں کہ انہوں نے کورونا کو انتہائی بہترین اندازاحتیاطی تدابیر اپنائی اور قوم کو بھی اس حوالے سے آگاہی کرائی، نہایت سائنسی انداز سے وہ آگے بڑھے جو ایس او پیز انہوں نے بنائے اس میں انہوں نے صحت اور معیشت دونوں کا بیلنس رکھا ہے ۔یہ نہ ہو کے لوگ بھوکا مرنا شروع ہو جائیں ۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ اسی کی وجہ سے آج پاکستان بہت سے ممالک کے مقابلے میں کورونا پر قابو پانے والے بہترین ممالک میں شامل ہے ۔بھارت کو تو چھوڑ دیں وہاں کورونا بہت پھیلا ہوا ہے ، حتیٰ کہ امریکہ ، برطانیہ ، نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں بد احتیاطیاں کرنے کی وجہ سے کورونا واپس حملہ آور ہوا آج اللہ کا شکر ہے پاکستان میں حالات بہتر ہیں ۔لیکن ہمیں احتیاطی تدابیر کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔سعید مہدی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ برطانوی سوسائٹی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ہمارے یہاں جاگیر دارانہ نظام ہے جب پاکستان بنا تھا تو ہم اپنی سوکس کی کتابوں میں پڑھتے تھے کہ جو جاگیر دار اپنے لوگوں کا مالک ہوتا تھا ۔اس کو آپ زمیندار کہیں ، وڈیرہ کہیں ، یا سردار کہیں ان کا اتنا اثر ہوتا تھا کہ لوگ ان کے کہنے پر ان کے دبائو پر ووٹ ڈالتے ہیں اور پھر وہ جاگیر دار منتخب ہوجاتے ہیں ۔ایک عام آدمی کے لیے الیکشن لڑنا انتہائی مشکل ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر صدارتی نظام حکومت آئے تو وہ چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ ہو میرا خیال ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت میں کیا ہوا ہے کرپشن ، اقربا پروری ،قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔اگر صدارتی نظام حکومت ہوتا ہے تو آپ کوئی سسٹم بنائیں چار سال کی مدت رکھیں اور کسی کو بھی دو دفعہ سے زیادہ صدر بننے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ایک حد ہونی چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک شخص ساری زندگی ہی صدرمملکت کی نشست پر براجمان رہے اور اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ جو الیکشن ہار جاتے ہیں ان کو پھر سینیٹ کا ٹکٹ یا سپیشل سیٹ پر لانا وہ بھی درست اقدام نہیں ہے حتیٰ کہ عوام جب تک اسے منتخب نہ کرے یا ووٹ نہ دے اگر آپ اس کو بیک ڈور سے لے آئیں گے تو یہ حقدار کی حق تلفی ہو گی ۔ایک سوال کے جواب میں سعید مہدی نے کہا کہ اگر صدارتی الیکشن ہوتاہے اور مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف حصہ لیتی ہیں تو دیکھنا یہ پڑے گا کہ عوام کس کو ووٹ دیتی ہے۔میرے خیال میں جو آپ نے کہا ہے کہ صدارتی نظام میں عمران خان اور پارلیمانی نظام میں ن لیگ فاتح ہو گی تو میں اس میں کسی حد تک متفق ہوں ۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے لیے انتخابات کی راہ ہموار کرنا چاہیے ، صدر مشرف نے گریجویشن کی حد رکھی تھی لیکن وہ ختم کر دی گئی ، لیکن کوئی نہ کوئی حد ہونی چاہیے ۔ہمارے جو اسمبلیوں میں نمائندے ہیں وہ قانون ساز ہوتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ تعلیم یافتہ نہ ہوں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں دھڑے بندی کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ جو کرسی ہے اس میں باب بیٹا بھی ایک دوسرے کے نہیں ہوتے ۔اورنگزیب کی مثال ہمارے سامنے ہے اس نے بادشاہت کے لیے اپنے تین بھائیوں کو قربان کردیا۔ یہ ایک اولاد تھی ان کے ماں باپ ایک ہی تھے ،انہوں نے کہا کہ نواز لیگ میں نواز شریف ہی لیڈر ہیں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ نواز شریف شہباز شریف کو لیڈر بنائیں گے یا مریم کو ۔ کیونکہ میری ان کے حوالے سے ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔سعید مہدی نے کہا کہ جنید بھی ایک اچھے سیاستدان ہونگے ۔جنید نے آپ کی بات کا جواب اسی طرح دیا ، جس طرح میں نے دیا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں نواز شریف کے خاندان میں جھگڑے ہیں اور لوگ بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔نواز شریف الیکشن لڑنے جارہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر نواز شریف الیکشن نہیں لڑتا تو حق شہباز شریف کا بنتا ہے کیونکہ وہ وزیراعلیٰ بھی رہے اور ان کے چھوٹے بھائی ہیں ۔سعید مہدی نے کہا کہ خواہشات کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ میں کیوں نہ بنوں یہ کیوں بنے ، اب اس کے بچے بھی آ جائیں گے ، ہم تین دفعہ چیف منسٹر رہ چکے ہیں پنجاب میں ہمارا حق بنتا ہے ۔کرپشن کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں سعید مہدی نے کہا کہ جب جنرل جیلانی نے نواز شریف کو بلایا اور میں بھی وہاں موجود تھا اور کچھ اور لوگ بھی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف میں نے صدر اور وزیراعظم جونیجو سے بات کی ہے اور وہ دونوں اس بات پر رضا مند ہیں جنرل جیلانی نے کہا کہ میں ایک بات کہتا ہوں کہ آپ حکمرانی میں آ گئے ہیں اس کے بعد بزنس میں کوئی اضافہ نہیں ہونا چاہیے ۔یہ ایک بہت اچھی ایڈوائس تھی ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہباز شریف نے لاہور میں بہت کام کیا ۔سڑکیںبنائیں انڈر پاس بنائے بارش ہوتی ہے آپ حال دیکھ لیں کیا ہیں ۔انڈر پاس سے آپ گزر نہیں سکتے ، غیر منصوبہ بندی کوئی سیوریج سسٹم نہیں کوئی ڈرینج سسٹم نہیں کراچی میں بھی یہی مسائل سامنے آئے ۔حکومت کو چاہیے کہ کراچی کو جو مدد دی ہے انہیں پیسے نہیں کھانے دینے چاہیے ، عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک کمیٹی بنائے جو سارے معاملات دیکھے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جب ہسپتال بنا رہے تھے تو میں ہسپتال کا بہت بڑا سپورٹر تھا ۔مگر انہوں نے اپنی ٹیم کا خد انتخاب کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں مرر آن دا وال اس میں جو تشنگی رہ گئی ہے وہ ساری بیان کر دونگا، آپ میری کتاب کو پبلش کر دیں تو میرے لیے یہ خوشی کی بات ہو گی۔
ان خیالات کا اظہار روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔