- الإعلانات -

اٹھارویں ترمیم کا از سر نو جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں

اگر اس ترمیم میں نقائص موجود ہیں جن میں تبدیلی کی ضرورت ہے وہ کمیٹی کو بتائیں،رحمان ملک
اسلام آباد(خبر نگار) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے بعد چئیرمین پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سنئیر اینکر پرسن ایس کے نیازی کی اٹھارویں ترمیم پر از سرے نو غور کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے از سر نو جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ایک اچھی نیت سے لائی گئی اور تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ پاس کیا تھا تاہم اگر اس میں کوئی سکم یا پوائنٹس موجود ہیں جن میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو آپ اس حوالے سے حقیقی طور پر مکمل آگاہی رکھتے ہیں وہ کمیٹی کو بتائیں ہم اس پر کام کریں گے۔ جس پر سنئیر اینکر پرسن سچی بات ایس کے نیازی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر میری پیٹیشن سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر موجودہ ہے جسے ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے جس سے یہ اہم مسلہ حل ہو جائے گا۔ رحمان ملک نے کہا کہ کمیٹی عدالت میں اٹھائے جانے والے معاملے کو نہیں دیکھتی کیونکہ وہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تاہم ایس کے نیاز ی صاحب کی جانب سے دیا گیا مشورہ اور ان کے اٹھائے گئے پوائنٹس پر نیشنل انٹرسٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ضرور اٹھائیں گے۔ رحمان ملک نے مزید کہا کہ نیازی صاحب آپ نے دیکھا ہے کمیٹی میں ملک کیلئے جو بہتر ہوتا ہے اس پر کھل کر بات ہوتی ہے۔سب سے پہلے ہم پاکستانی ہیں ہمیں ریجنل پہچان کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کیلئے زیادہ سوچنا ہوگا۔ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے اور اسی کو ہی پرومٹ کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو توڑنے اور تباہ کرنے کیلئے واٹر ٹیریزم ہائبرڈ وار اور پروکسی وار کی بات ہوتی ہے اور ہمارا دشمن بھارت ہر طریقے استعمال کر ے گا۔ہمیں دیکھنا ہے ہم سیاستدان اور پاکستان کی عوام کو انڈیا کے ہاتھوں ان ڈائریکٹ استعمال ہونے کے بجائے بین المذہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ پاکستان کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے اور ہم دنیا میں سب سے زیادہ مظبوط اور طاقت وار بنیں۔