- الإعلانات -

موٹروے کیس کے ملزم کی شناخت ہوگئی، حکومت نے تصدیق کردی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ موٹروے پر خاتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سمیت پوری ٹیم کو مبارک ہو۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار رات 4 بجے تک اجلاس میں تھے۔ ملزم کی انشاللہ جلد گرفتاری بھی ہوگی۔ وزیراعلی ٰ پنجاب عثمان بزدار نےپورے کیس کی خود نگرانی کی۔ کام بولتا ہے الفاظ نہیں، ویلڈن وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار۔دوسری جانب ذرائع کے ہم نیوز کو بتایا کہ ملزم

کا پروفائل ڈی این اے میچ کرگیا ہے۔ ملزم فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔ کریمنل ڈیٹا بیس میں ملزم 2013 سے موجود ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔اس سے قبل انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب انعام غنی نے کہا تھا کہ تاحال کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا ہے، تاہم پولیس دن رات ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔گزشتہ روز موٹروے پر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کا اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والے 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد نے متاثرہ خاتون کے اکاوَنٹ سے رقم کی ٹرانزیکشن کی کوشش کی۔ دونوں افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سیمپلز لے لیے گئے تھے۔دوسری جانب موٹروے پر زیادتی کا شکار خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی تھی۔ میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کا میڈیکل کوٹ خواجہ سعید اسپتال سے کرایا گیا۔ 7 مشتبہ افراد کا ڈی این اے میچنگ کروا لیا گیا۔ پولیس نے کرول گاؤں کے سینتالیس مردوں کے ڈی این اے سیمپل بھی لے لیے ہیں۔ دوسری طرف پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں رہائشیوں سمیت 70 سے زائد جرائم یافتہ افراد کو شارٹ لسٹ بھی کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ متاثرہ خاتون کی گھڑی اورانگھوٹھی مل گئی ہے اور 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر آئی جی پنجاب کیس میں ہونے والی

پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔کھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5 کلومیٹر کا علاقہ چیک کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے گئے اور کھوجیوں کی نشاندہی سمیت مختلف شواہد پر پندرہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیہ جات کے حامل 15 مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے۔ تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمرہ جات سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ وزیرقانون راجہ بشارت کو کمیٹی کے کنوینرمقرر کیا گیا ہے جب کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کمیٹی، ڈی آئی جی انوسٹیشن پنجاب ڈاکٹرمسعودسلیم اور ڈی جی فرنزک ایجنسی، کمیٹی کے ممبر ہیں۔کمیٹی سے تین روز میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ جبکہ کمیٹی آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔پولیس کی20ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہیں جب کہ متاثرہ خاتون اور حراست میں لیے گئے افراد کے سیمپلز فرانزک لیب بھجوا دئیے گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق لاہور تا سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ کر دی گئی ہے ملزموں کی تلاش کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کے بیان پر ملزمان کے خاکے بھی بنوا لیے ہیں۔