- الإعلانات -

ریپ کے ملزمان کے خلاف قوانین میں ترمیم لارہے ہیں، سینیٹر فیصل

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے ریپ کے مجرم کی جنسی صلاحیت ختم کرنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں ترمیم کی جائے جس کے تحت ریپ کے ملزمان کے خلاف ٹرائل اور پراسیکیوشن میں تیزی لاکر انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔

اسلام آباد میں سینیٹر ذیشان اور زینب کے والد امین انصاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران لاہور-سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس کے تناظر میں انہوں نے ‘ریپ کے ملزمان کی سخت سزاؤں کے لیے پوری قوم متحد ہے اور ہم قوانین میں ترمیم لارہے ہیں اور اب انہیں عبرت کا نشان بنائیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ ایسے کاموں میں بہت سے لوگوں کو سیاسی پست پناہی حاصل ہوتی ہے، ماضی میں کئی واقعات ہوئے جس میں لوگ ریپ کے ملزمان کی حمایت کرتے تھے’۔

سینیٹر فیصل نے زور دیا کہ ریپ کے ملزمان کے خلاف سزائیں سخت کرنے اور قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کریں گے۔

یاد رہے کہ 9 ستمبر کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں حملہ آور فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ملزمان ان کا اے ٹی ایم کارڈ لے کر فرار ہوگئے تھے۔

تاہم اس حوالے سے تازہ پیش رفت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ لاہور موٹر وے پر گینگ ریپ میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملزم کی شفقت علی کے نام سے شناخت ہوئی ہے اور اس کا ڈی این اے جائے وقوع سے اکٹھا نمونوں سے میچ کر گیا ہے

اس موقع پر سینیٹر ذیشان نے کہا کہ ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی میں دو چیزیں اہم ہیں پہلی یہ کہ ریپ کی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں تو اس پر قانون کے تحت کیا کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور دوسری یہ کہ جو کیسز رپورٹ نہیں ہوتے، قانون میں ایسی شق ہونی چاہیے کہ وہ کیسز رپورٹ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی کے علاوہ ذہن سازی بھی بہت ضروری ہے جس کا قانون کے عملدرآمد پر کلیدی کردار ہوگا۔

سینیٹر ذیشان نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں بالترتیب ریپ کے کیسز زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں اس لیے سوسائٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز پر ان بچوں کا حق ہے کہ ہم ریپ کے ملزمان کے خلاف سخت قانون سازی کریں۔

بچوں کے ریپ، تشدد، قتل کے ملزمان حکومت کے مہمان بن جاتے ہیں، زینب کے والد
اس موقع پر پنجاب کے شہر قصور میں ریپ کے بعد قتل ہونے والی 6 سالہ بچی زینب کے والد امین انصاری نے حکومت سے ملک میں پورونوگرافی پر مشتمل ویب سائٹس پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ زنیب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ کے تحت چاروں صوبوں اور مرکز میں باقاعدہ ایک اتھارٹی قائم کی جائے۔

واضح رہے کہ ریپ اور قتل کا نشانہ بننے والی زینب انصاری کی لاش کے ملنے کے ٹھیک 2 سال بعد قومی اسمبلی میں زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ 2019 متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔

امین انصاری نے کہا کہ یہاں جمع ہونے کا مقصد رائے عامہ ہموار کرنا اور مذکورہ مسئلہ پارلیمنٹ کا اجتماعی مسئلہ ہے ملک کر جامعہ لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے ریپ اور ان پر تشدد میں تفتیش اور پراسیکیوشن میں غیرمعمولی وقت لگتا ہے اور اس دوران ملزمان قانونی سقم کا فائدہ اٹھتے ہیں۔

زنیب کے والد نے زور دیا کہ ملک میں گزشتہ 10 برس میں بچوں کے ریپ اور ان پر تشدد و قتل کے متعدد کیسز زیر التوا ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ پہلے زیر التوا کیسز کی فائنڈنگ کرائیں اور قانون میں ایسی ترامیم لائیں جس سے مجرم کو جلد از جلد سزا ملے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ بچوں کے ریپ کے ملزمان قانونی سقم کی وجہ سے حکومت کے مہمان ہیں یا باہر پھرتے ہیں۔

امین انصاری نے کہا کہ ملزمان کو ریلیف ملتا ہے اور بری ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جنوری میں 6 سالہ زینب کو اغوا کیا گیا اور پھر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اسے قتل کردیا گیا۔

مذکورہ واقعے کے 5 روز بعد زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر پر پائی گئی جس نے پورے ملک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔

بعد ازاں پولیس کی سرتوڑ کوشش اوراہل خانہ کے تعاون سے زینب کے قتل میں ملوث عمران علی کو 3 ہفتے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

17 اکتوبر 2018 کو زینب کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کرنے والے مجرم عمران علی کو انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔

واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔

اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے تنازع کھڑا کردیا اور عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

سی سی پی او نے کہا تھا کہ ‘خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں’۔

یہی نہیں واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا جس پر حکومت بھی ایکشن میں آئی تھی اور آئی جی پنجاب پولیس نے مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبائی وزیرقانون راجا بشارت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔

علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ساتھ ہی اس موقع پر بتایا گیا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔

تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔